جمعہ، 8 نومبر، 2019

"یہ گورکھ دھندہ کب ختم ہو گا"

"یہ گورکھ دھندہ کب ختم ہو گا"
میں کاروبار کے ساتھ پچھلے 15 سال سے منسلک ہوں۔ کاروباری مراحل میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ لیکن ایک بات میں واضح کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں سب سے مشکل کاروبار کریانہ سٹور کا ہے۔ سب سے زیادہ محنت، ڈیوٹی، سرمایہ کاری، ٹیکسسز، مسائل اور بلیک میلنگ اس کاروبار میں ہے اور شرح منافع سب سے کم ہوتا ہے۔ ٹرن اوور زیادہ ہونے کے باعث لوگ یہ سمجھتے ہے اس کا تو کاروبار ہی بہت زیادہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کاروبار میں شرح منافع واضح اور بالکل معمولی سا ہوتا ہے اور الحمدللہ برکت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ میرے پندرہ سال کاروباری پیریڈ میں یہ چوتھی حکومت ہے لیکن ایک بات افسوس سے کہوں گا کسی بھی حکومت نے کریانہ سٹور والوں کے مسائل حل کرنے کی طرف ایک فیصد بھی توجہ نہیں دی۔ سب سے زیادہ اداروں کا ٹیکس کریانہ مرچنٹ والوں کو دینا پڑتا ہے، ضلعی انتظامیہ کا سارا بوجھ صرف کریانہ مرچنٹ والوں پر پڑتا ہے، خدانخواستہ ملک میں کسی قسم کا کوئی مشکل وقت سیلاب یا زلزلہ آئے تو سب سے زیادہ امداد یہی کریانہ سٹور والے کرتے ہیں۔ لیکن کریانہ سٹور والوں کو انسان نہیں سمجھا جاتا۔ ایک معمولی سے معمولی کلرک، ڈرائیور یا سرکاری ملازم ہمیں بلیک میل کرتا ہے۔ سرعام بلیک میلنگ پر افسران بالا بھی انکی سرزنش نہیں کرتے بلکہ ان کو صوبائی حکومت کی جانب سے ٹارگٹ ملے ہوتے ہیں کہ اتنا جرمانہ کسی بھی حال میں جمع کرنا ہے۔
جو ٹیکسوں کی شرح کریانہ سٹور پر ہے ان میں سے چند یہ ہیں
1. پنجاب فوڈ اتھارٹی
سالانہ 12000 تک
2. میونسپل کمیٹی
سالانہ 2 ہزار تک
3. مارکیٹ کمیٹی
سالانہ 2 ہزار روپے اور ماہانہ 4 سو روپے سے 2 ہزار ماہانہ
4. لیبر ڈیپارٹمنٹ
سالانہ 1 ہزار روپے تک
5. ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن
2 ہزار روپے سالانہ تک
اس کے بعد انکم ٹیکس الگ ہے
یہ ٹیکسوں کا بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ شاید لوگ اتنا انکم ٹیکس بھی نہیں دیتے ہونگے۔ یہ ابھی اداروں کی جانب سے نافذ کئے گئے ٹیکسسز ہیں۔ بجلی کے بل اور اس میں بےتحاشہ ٹیکس، دوکانوں کے کرائے، ملازمین کی تنخواہ یہ سب ادا کرنے کے بعد اگر کچھ بچے گا تو اس کے گھر کا نظام چل سکے گا جس میں اس کے گھر کے اخراجات، بچوں کی فیس، کپڑے، کھانا پینا، غمی خوشی ہر چیز شامل ہے

لیکن سب سے زیادہ ظلم صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ یہ حالات سے واقف ہونے کے باوجود مہنگائی روکنے میں ناکام ہونے کی صورت پر سارا بوجھ چھوٹے پرچون فروش دوکاندار پر ڈال دیتے ہیں اور اسے اذیت کا شکار کر دیا جاتا ہے۔ پرچون فروش دوکاندار کو ضروری اجناس کے جو پرچون فروخت کے ریٹس دیئے جاتے ہیں وہ ہول سیل مارکیٹ جہاں سے پورے پنجاب کو سپلائی کی جاتی ہے ان کے ہول سیل ریٹس سے بھی کم ہوتے ہیں اور پھر دوکاندار کو زبردستی اس پر فروخت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور انکار کی صورت میں اس کے خلاف نت نئے طریقے سے کاروائی کی جاتی ہے اور ہزاروں روپے کے جرمانہ اور ایف آئی آرز کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایک سادہ مثال ہے کہ چینی کا ایکس فیکٹری ریٹ اگر 7 ہزار روپے ہو گا تو اس مین کم از کم 1 سو روپیہ فی بوری ہول سیل ڈیلر کا کرایہ پڑتا ہے۔ اسکی ان لوڈنگ لیبر اخراجات اور منافع کی شرح ڈال کر اگر صرف 50 روپے اضافہ کیا جائے تو 7150 روپے بن جاتا ہے۔ جب پرچون فروش وہ چینی کا بیگ لیکر جاتا ہے تو 50 کلو کے بیگ سے ایک ایک کلو چینی فروخت کرنے پر کم از کم 150 روپے کے آدھا کلو شاپر لگ جاتے ہیں اور چینی بھی پچاس کلو پوری نہیں ہوتی ہے۔ کم از کم تین روپے پرچون فروش کا خرچہ ہے لیکن دوکاندار کو منافع دینے کی بجائے فیکٹری ریٹ سے بھی کم ریٹ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح دالوں کے ہول سیل مارکیٹ سے کم از کم بیس سے پچاس روپے کلو۔ ریٹس دیئے جاتے ہیں۔
 صوبائی سیکرٹری سے لیکر وزیراعلی تک کسی میں اتنی جرات نہیں کہ وہ کسی گھی مل، شوگر مل یا ہول سیل مارکیٹ سے سپلائی دلوا سکیں۔ عوام کا بیوقوف بنایا جا رہا ہے اور سارا الزام ان دوکاندار پر لگا دیا جاتا ہے کہ یہ ذخیرہ اندوز اور گراں فروش ہیں۔ لیکن ان کا سوال صرف ایک ہے
"یہ گورکھ دھندہ کب ختم ہو گا"

پیر، 13 مئی، 2019

زندگی کا محور

سوچ کر لکھنا تو شاید اب ختم ہو چکا ہے۔ اب لکھ کر بھی سوچنا گوارہ نہیں کیا جاتا۔ کیا لکھا اور کس لئے لکھا اور کیوں لکھا اس پر کچھ نہیں لکھا کہ ایسا کیوں لکھا۔ آج بھی جس سے ہم استفادہ حاصل کرتے ہیں وہ صرف قرآن پاک اور احادیث مبارکہ کے علاوہ صرف ان بزرگوں کی تصانیف ہیں جنہوں نے یہ سوچ کر لکھا کہ ان کا لکھا کسی کے کام آئے گا۔ اور اسی لکھے نے ان کے لکھے کو بےمثال کر دیا
کچھ حاصل کرنا 
یہ حاصل کرنا 
یہ میری زندگی کا مقصد ہے
میرا یہ خواب ہے
میری یہ خواہش ہے
یہ سب وہ باتیں ہیں جن کی دوڑ میں ہم زندگی شروع ہوتے ہی شروع ہو جاتے ہیں اور جب کچھ حاصل کر لیتے ہیں تو بے انتہا خوشی کے عالم یہ بھول جاتے ہیں کہ اب جب یہ حاصل کر لیا ہے تو کیوں حاصل کیا ہے اور حاصل لا حاصل کیا ہے 
جب حاصل نہیں کر پاتے تو یہ سوچنا گوارہ بھی نہیں کرتے کہ ہمیں یہ نہیں ملا تو پھر کیا کھویا ہم نے اور اگر کچھ کھویا نہیں تو پھر اصل میں حاصل کیا ہوا تھا۔ 
زندگی کچھ حاصل کرنے اور کچھ حاصل نہ کر سکنے پر گھوم رہی ہے 
مل گیا تو ہماری عقل مندی اور کوشش کو کریڈٹ مل گیا اور کچھ نہ مل سکا تو قسمت کو مورد الزام ٹھہرا کر اصل حاصل کو حاصل کرنا بھول جاتے ہیں
زندگی کا محور کیا وہی ہے جس کی تلاش کبھی نہ ختم ہونے والے چکر ہیں جس میں کسی کا حاصل ہونا یا کھو جانا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ بس اسی پر اکتفا کرنا ہے کہ قسمت ہی ایسی تھی 
لیکن کیا زندگی کے محور میں اصل حاصل کرنے کی جستجو ہی ختم ہو گئی ہو

جمعرات، 7 دسمبر، 2017

عوام، اعمال اور حکمران

عرصہ ہو گیا الفاظ کانوں میں گونجتے رہتے ہیں،  دماغ گھبراتا ہے اور دل سوچتا ہے. لیکن زبان ساتھ نہیں دیتی اور ہاتھ کانپتے ہیں. کہ لکھنا مہارت ہے یاں اسکو پڑھ کر مذاق اڑانے میں مزہ زیادہ آتا ہے. کون کسی کو کیا دیتا ہے اسکا تو پتہ نہیں لیکن کون کس سے کیا لیتا ہے اسکی بازگشت سرعام ہے.
ایک عام رائے قائم ہے کہ جیسی عوام ویسے حکمران. اس بات کو حدیث مبارکہ سے منسلک کیا جاتا ہے لیکن ایسی کوئی حدیث مبارکہ کسی واضح طور پر سامنے نہیں آئی اور اسکی بڑی ضعیف شہادت ہے
پھر سمجھ آتی ہے کہ ہم تو وہ قوم ہے جو سنی سنائی باتوں کو ایسے آگے پھیلاتے ہیں جیسے وہ ثواب دارین کے لئے ضروری ہے حالانکہ یہ حدیث مبارکہ ضرور ہے کہ وہ شخص بالکل جھوٹا ہے جو سنی سنائی بات کو آگے پھیلائے.
عوام اور حکمران کے متعلق قرآن پاک میں بھی تذکرہ ہے جسے اس طرح بیان کیا جاتا ہے

1: ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم (بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے) سورہ الرعد 11

2:و کذالک نولی بعض الظالمین بعضا( ہم ظالموں میں سے بعض کو بعض پر حکمران بنا دیتے ہیں)  سورہ الانعام 129

3: کما تکونوا یولی علیکم (جیسے تم خود ہوگے ویسے تم پر حکمران بنا دیے جائیں گے) حدیث... لیکن انتہائی ضعیف

یہ وہ راہنمائی ہے جو اللہ تعالی خود انسان کے لئے فرما رہا ہے لیکن افسوس ہر ایک نے اسکو اپنے الفاظ میں تشریح کر لیا.
ایک بزرگ سے پوچھا بابا جی یہ حکمران کون ہوتا ہے انہوں نے جواب دیا بیٹا جو قوم کا راہنما ہوتا ہے وہی حکمران ہوتا ہے اس دن سے اس لمحہ سے ان الفاظ نے جکڑا ہوا ہے کہ اگر حکمران راہنما ہوتا ہے تو یہ سیاست دان کون ہوتا ہے. کیونکہ یہی کہا جاتا ہے کہ حکمرانی کرنے والے عوام کے ووٹ لیکر آتے ہیں لیکن ووٹ لینے والے تو سیاست دان ہوتے ہیں اور سیاست دان تو راہنمائی نہیں کر رہے. پھر تھوڑا ماضی کے اوراق پلٹے تو سمجھ آیا کہ ساری دنیا اسی مخمصے میں ہے کہ ہم سیاست دان ہیں ہمیں سیاست کرنے دیں اور آپ اپنا کام کریں. مطلب حکمرانی کرنا صرف سیاست دان کا کام ہے تو عام روز مرہ زندگی میں جب کوئی کسی سے فراڈ کرتا ہے تو کہتے ہیں یار اس کے ساتھ سیاست ہو گئی. فراڈ کرنے والے کو کہا جاتا یار یہ تو بڑا سیاسی بندہ ہے. تو کیا سیاست کرنے کا مطلب فراڈ ہوا. اگر نہیں تو پھر قوم کی راہنمائی کون کرے گا کہ سیاست فراڈ نہیں ہے.
تاریخ کے اوراق ہی بتاتے ہیں کہ مازوئے تنگ نے جب چائنا کے حالات بدلے تو وہ قوم افیم کے نشے میں مست تھی تو کیا مازوئے سیاست دان بن کر سامنے آیا یاں راہنما بن کر. اسی طرح ملائشیا کی عوام بہت متقی پرہیز گار اور صالح تو نہیں تھی جو مہاتیر محمد نے راہنمائی کا بیڑہ اٹھا لیا اور قوم کو بلند مقام پر لے آیا. مسلکی معاملے اور پستی میں ایران کم تو نہیں تھا لیکن امام خمینی کی راہنمائی نے قوم کا معیار کہاں سے کہاں بڑھا دیا.
بدقسمتی کہاں سے شروع ہوتی ہے اس کو اخذ کرنے کے لئے ہر ایک کا الگ طریقہ کار ہے. عوام اس کو پسند کرتی اور ووٹ دیتی  ہے جو اس کے ہر جائز ناجائز کام کو من و عن کروا دے. ہر سیاسی جماعت کے فالوورز کئی شکلوں میں سامنے آتے ہیں
1. جو اپنے کام اور نوکری یا ٹھیکوں کی بنیاد پر ساتھ چلتے
2. جو علاقائی سیاست دان کے ذاتی ورکرز ہوتے اور اس کیساتھ ہر جماعت میں شامل ہوتے
3. سیاسی جماعت کے نظریاتی ورکرز
یہی وہ بدقسمت طبقہ ہے جو سب سے کم ہے اور ساری زندگی راہنمائی کی تلاش میں منتظر رہتا ہے. ہر وقت ہر لمحہ راہنمائی کی آس پر اسکی زندگی گزرتی ہے اور آخر میں پتہ چلتا ہے کہ جناب حکمران صاحب تو فرماتے ہیں کہ یہ سیاسی بیان تھا. وہ سیاسی بیان کیا ہوتا ہے. اسکی تلاش مجھے تو ہے ہی شاید اور دوسروں کو بھی ہو گی.
اور جہاں تک رہی عوام کے اعمال کی بات تو ماشاءاللہ اسکا تو حال ہی بہت بلند ہے. ایک محکمے کے چپڑاسی سے لیکر ایوان اقتدار کے ایوانوں تک بس اپنے نام کی چمک اور جیب کی دمک بڑھانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے
اصل ضرورت اس راہنما کی ہے جو سیاست کی گالی کو ختم کر کے اپنی عوام اور رعایا کی وہ راہنمائی کرے جسکی مثال تاقیامت رہے. اللہ تعالی بزرگ و برتر کی ایک لاکھ چوبیس ہزار لگ بھگ کے انبیاء کرام اور رسول اس دنیا میں بھجوائے. انہوں نے اپنے اعمال اور کردار سے راہنمائی کا طریقہ سمجھایا اس طرح راہنما اس سنت پر بھی پیرا عمل ہوتے ہیں جو انبیاء کرام نے اس دنیا کو اللہ کے راستے پر لانے سرانجام دیئے.

کیا امریکہ برطانیہ اسرائیل اور دوسرے غیرمسلم ممالک جو آج دنیا میں بلند ترین مقام پر ہے انکی عوام کے کردار بہت بلند ہیں کیا وہ بہت اعلی کام کرتے ہیں جو انکو ایسے حکمران ملتے ہیں جو انکی فلاح و بہبود کے لئے سب کچھ کرتے ہیں. شاید وہ راہنمائی کا مطلب سمجھ چکے ہیں.
اگر عوام یہ ارادہ کر لے کہ اسے روٹی کپڑا مکان نہیں راہنما چاہئیے اسے سیاستدان نہیں لیڈر چاہیئے اور اسے ملازمت اور ٹھیکے نہیں بلکہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لئیے راہنمائی چاہئیے. اور وہ لیڈر راہنما اپنی راہنمائی سے قوم کو بلند مقام پر لیجائے. آج بھی وہ نام بلند ہیں جو حکمران بعد میں تھے اور راہنمائی انکا فریضہ تھا

منگل، 13 دسمبر، 2016

ننکانہ صاحب کی سیاسی ڈائری


پنجاب کے چھتیس اضلاع میں ننکانہ صاحب ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ یہ عالمی سطح پر بھی سکھ برادری کی وجہ کافی بڑا مقام رکھتا ہے۔ آجکل پنجاب کے تمام اضلاع کی طرح ننکانہ صاحب بھی بلدیاتی سیاست کے سحر میں مبتلا ہے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن پنجاب میں اپنی پوزیشن کو مضبوط رکھنے اور اگلے آنے والے عام انتخابات کے لئے اپنی راہیں ہموار کرنے میں لگی ہوئی لیکن ننکانہ صاحب میں اسے مدمقابل جماعتیں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی بجائے اپنی ہی جماعت کے سیاسی دھڑوں سے مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے جو ایک خطرے کی طرح منڈلا رہی کہ حکمران جماعت ضلع ننکانہ اور میونسپل کمیٹی ننکانہ صاحب کی چئیرمین کی سیٹ سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا۔ ننکانہ صاحب تین تحصیلوں پر مشتمل ہے۔ جس میں ننکانہ صاحب سب سے بڑی تحصیل ہے جو دو ایم این ایز ڈاکٹر شذرہ اور بلال ورک اور تین ایم پی ایز ملک ذوالقرنین ڈوگر، کاشف پڈھیار اور رانا جمیل حسن پر مشتمل ہے جبکہ تحصیل شاہکوٹ اور تحصیل سانگلہ ہل ایک ایم این اے وفاقی وزیر کشمیر اُمور چوہدری برجیس طاہر دو ایم پی ایز پارلیمانی سیکرٹری رانا ارشد اور طارق باجوہ پر مشتمل حلقے رکھتے ہیں۔ ضلع کی سیاست میں اس وقت اصل مقابلہ برجیس طاہر اور ڈاکٹر شذرہ گروپ میں ہے لیکن ان دونوں دھڑوں کا فائدہ کوئی اور لے جائے گا۔ ننکانہ صاحب کے چونسٹھ یونین کونسلز چئیرمین میں سے جٹ برادری سترہ ، کھرل برادری چودہ اور ارائیں برادری گیارہ سیٹوں کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ جو ننکانہ ضلع پر راج کے لئے پوری طرح جوڑ توڑ میں لگے ہوئے۔ کیونکہ چونسٹھ سیٹوں میں چودہ سیٹیں مسلم لیگ ن ، نو سیٹیں تحریک انصاف ، ایک سیٹ پیپلز پارٹی اور چالیس سیٹیں آزاد امیدوار لے اڑے۔ جو ہر ایم این اے اور ایم پی اے کے بھائی کزنوں کو ہرا کر آگے آئے صرف ایک ایم پی اے ملک ذوالقرنین ڈوگر کا بیٹا ملک عامر ڈوگر جیتا جو ضلعی چئیرمین کا امیدوار بھی تھا لیکن ٹکٹ ناں ملنے کی وجہ سے مایوس بھی اور یہی وجہ لوکل ایم این اے ڈاکٹر شذرہ اور ملک ذوالقرنین ڈوگر میں اختلاف کا باعث بنی۔ 
ضلع کے راج کے لئے برجیس طاہر گروپ جس میں رانا ارشد اور رانا جمیل حسن شامل تھے انہوں نے تین نام قیادت کو پیش کئے یہ تینوں کھرل برادری سے تبے جسکی وجہ سے دوسرا گروپ جو رائے منصب علی کی بیٹی ڈاکٹر شذرہ منصب، طارق باجوہ ، ذوالقرنین ڈوگر، بلال ورک اور کاشف پڈھیار پر مشتمل ہیں وہ ذرا مشکل میں آیا کیونکہ اگر یہ گروپ ان ناموں کی مخالفت کرے گا تو انکے گروپ میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ لیکن یہ گروپ چئیرمین کی ٹکٹ لینے میں کامیاب ہوگیا اور طارق باجوہ کے حلقہ سانگلہ ہل سے ملک طاہر کو چئیرمین کا اُمیدوار نامزد کر دیا گیا۔ ساتھ میں وائس چئیرمین بھی تحصیل شاہکوٹ کو دے دی گئی جس پر تحصیل ننکانہ میں غم وغصہ دیکھنے میں آیا۔ برجیس طاہر دو دن بعد اس حلقہ کو اوپن کروانے گیا لیکن وائس چئیرمین کی ٹکٹ ان سے لیکر تحصیل ننکانہ ڈاکٹر شذرہ گروپ کو دے دی گئی جنہوں نے اس سیٹ پر رائے منشا کھرل کو نامزد کر دیا۔ چئیرمین کے دوسرے سب سے مضبوط امیدوار گل چاچکے سے جیتنے والے طاہر منظور گل ہے جن کے بھائی شاہد منظور سابقہ ایم این اے ہے اور برجیس طاہر کے کافی سمجھے جاتے تھے لیکن ٹکٹ کے لئے انکا نام نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کھرل برادری کے ساتھ سے ملکر الیکشن لڑنے کا اعلان اور رائے سجاد کھرل جو کہ سابقہ ایم پی اے رائے اسلم کھرل بیگے والا کے بھائی ہے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروا دئیے۔کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے آخری دن ایک اور گروپ سامنے آگیا جو حمایت یافتہ ہے ایم این اے ڈاکٹر شذرہ کے کزن رائے توصیف کھرل جو رائے منصب کی وفات کے بعد ایم این اے کے امیدوار تھے اور چوہدری شفیع جو ضلع کی ٹیکنوکریٹ سیٹ جو سارے حکومتی پینل کے مقابلے صرف دو ووٹوں سے ہارے اور تحصیل ننکانہ کی سیاست میں ایک دبنگ اینٹری دی ہے۔ اس ساری سیاست میں تحریک انصاف کے مرکزی راہنما بریگیڈئیر ریٹائر اعجاز شاہ جو پرویز مشرف کے دست راست اور سابقہ ڈی جی آئی بی اور ہوم سیکرٹری پنجاب کی سیٹ پر تعنیات رہ چکے ہے اور ننکانہ صاحب کو ضلع بنوانے میں اہم کردار رکھتے ہے۔ وہ حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ انکے چچا ننکانہ صاحب کے پہلے ضلع ناظم رہ چکے ہے اور اپنے نو چئیرمین کیساتھ چار مخصوص نشستیں بھی رکھتے ہیں۔ ملک ذوالقرنین ڈوگر اپنے بیٹے کو ٹکٹ ناں ملنے کی وجہ سے ڈاکٹر شذرہ سے اختلافات رکھتے ہے اسی طرح رانا جمیل حسن سے بھی ڈاکٹر شذرہ کے بہت زیادہ اختلافات ہیں جبکہ چوہدری برجیس طاہر اور طارق باجوہ بھی بہت زیادہ اختلافات رکھتے ہیں۔ ضلع کی اس کھینچا تانی میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر کے لئے مقابلہ بہت کانٹے دار بن چکا ہے۔ چوہدری برجیس طاہر اور رانا ارشد اس وقت مکمل کوشش میں لگے ہوئے کہ حلقہ کو اوپن کر دیا جائے۔ اب ضلع کی چئیرمینی کس کی گود میں گرے گی چند دنوں میں واضح ہو جائے گا لیکن اس سارے کھیل میں بہت بڑے برج اُلٹے گے بھی اور کئی نئے نام سامنے بھی آئیں گے۔ 
میونسپل کمیٹی ننکانہ میں مسلم لیگ ن چودہ سیٹیں جیتنے کے باوجود خطرات میں ڈوبی ہوئی ہے کیونکہ انکے ایک جیتے کونسلر کی غداری کی وجہ سے دو مخصوص سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے۔ تحریک انصاف کے پانچ پیپلز پارٹی کے ایک اور آزاد گروپ اتحاد کے آٹھ کونسلرز پر مشتمل پینل کے مشترکہ اُمیدوار چوہدری نعیم احمد میونسپل چئیرمین کے مضبوط ترین امیدوار ہے کیونکہ مسلم ن کی جانب سے تین امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دئیے ہیں لیکن ابھی تک پارٹی ٹکٹ باہمی اختلافات کی وجہ سے فائنل نہیں کی جاسکی اور میونسپل کمیٹی ننکانہ صاحب کو اوپن کر دیا گیا تھا۔ آخر دو دنوں کی انتھک محنت کے بعد ایم پی اے ملک ذوالقرنین ڈوگر مسلم لیگ ن کے تینوں کونسلرز کو ایک جگہ بیٹھانے میں کامیاب ہو گئے اور اُمید ہے کہ میونسپل کمیٹی ننکانہ صاحب میں مسلم لیگ ن کا ایک اُمیدوار فائنل ہو جائے جس کی صورت میں چئیرمین شپ کے لئے سخت مقابلہ متوقع ہے ورنہ اپوزیشن کا اتحاد آسانی سے حکمران جماعت سے جیت جائے گا

بابا گورونانک کا جنم دن

بابا گورونانک دیو جی آج سے 548 سال پہلے ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے جو اب سکھ مذہب کے بانی مانے جاتے ہیں۔ بابا گورونانک بچپن سے ہی اسلامی تعلیمات اور تصوف کے حامی گردانے جاتے تھے۔ اور انکے لکھے ہوئے کلام میں اسلام کے شعار ہی زیادہ تر اجاگر کئے گئے ہیں۔ بابا گورونانک جنم دن پر ننکانہ صاحب میں ہر سال پوری دنیا سےہزاروں یاتری آتے ہیں۔ انڈیا اور پوری دنیا سے آئے ہوئے ہندو و سکھ یاتری اپنے اپنے ممالک کی ثقافت اور پاکستان کی ثقافت کا ایک انوکھا رنگ پیش کرتے ہیں۔ اندرون سندھ اور پختوانخواہ کے ایک کثیر تعداد یاتری بھی اس موقع پر موجود ہوتے ہیں۔ ساری دنیا میں ننکانہ صاحب اپنی ایک پہچان رکھتا ہے اور پاکستان کا نام بلند کرتا ہے۔ بازاروں میں رش بڑھتا ہے۔ یاتری خاص طور پر پاکستانی کپڑے کی خریداری کرتے ہیں۔ گوردوارہ کے اندر خصوصی اسٹالز لگائے جاتے ہیں جس میں پاکستانی ثقافتی ورثہ خصوصی طور پر اجاگر کیا جاتا ہے اور یاتریوں کے کھانے پینے کے لئے کثیر مقدار میں کھانے کے اقدامات کئے جاتے ہیں
یاتریوں کے وی آئی پی رہائش کا بندوبست گوردوارہ میں ہی کیا جاتا ہے 

   جنم دن کے سلسلہ میں  دیسی مہینہ کاتک کی بارہ تیرہ اور چودہ کو انکی مذہبی رسومات جوش و خروش سے منائیں جاتیں ہیں۔ چودہ والے دن کیرتھن جلوس نکالا جاتا ہے جس میں نوجوانوں کی ٹولیاں بھنگڑے ڈالتے ہوئے اور مٹھائیاں بانٹتے جاتے ہیں۔ جلوس کے اختتام پر سب یاتری گوردوارہ واپسی کرتے ہیں تالاب میں اشنان کی رسم ادا کی جاتی اور بارہ بجے کے بعد آخری رسم بھوگ ڈالا جاتا ہے اور اگلی صبح واپسی کا سفر اختیار ہوجاتا ہے۔ پنجاب کا ثقافتی ورثہ اس میلے کے دوران نمایاں ہوتا ہے۔ 
انڈیا سے آئے یاتری خصوصی توجہ کے حامل ہوتے ہیں۔ جو مختلف ٹرینوں سے براہ راست ننکانہ صاحب پہنچتے ہیں۔ حکومت پاکستان اس ورثے کو نہایت کامیابی سے چلا رہی ہے۔    
 سیکورٹی کے سخت اقدامات مشکلات بھی پیدا کرتے ہیں عوام کے لئے۔ ایک وقت تھا جب جنم دن کا میلہ آتا تھا تو سچ میں میلے کا سماں ہوتا تھا۔ دور دور سے لوگ اپنے رشتہ داروں کے گھر اس میلے پر تفریح کے لئے آتے تھے۔ بچوں کے لئے دیدہ زیب اسٹالز، جھولے، موت کا کنواں اور سرکس لگائیں جاتیں۔ ہر طرف خوشیاں نظر آتیں تھیں۔ کاروباری حضرات کے کاروبار دوگنا ہوجاتے لیکن پھر دہشت گردی کے خوف نے اس پر بھی سایہ ڈال دیا اور یہ سب خوشیاں ماند پڑنا شروع ہو گئیں۔ اب سیکورٹی کے فول پروف اقدامات کی وجہ سے یاتریوں کے آنے والے دن ، جلوس والے دن اور واپسی والے دن مقامی مین روڈ کو مکمل سیل کر دیا جاتا ہے۔ کاروباری سرگرمیاں بالکل ختم ہو جاتیں ہیں۔ لوگوں کی نقل و حرکت میں بہت تکالیف پیش آتیں ہیں۔ پاکستان کے قومی تشخص کو قائم رکھنے کے لئے یہ مشکل اقدامات اٹھانے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں کیونکہ دشمن عناصر کسی لمحہ کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہتے جس سے ہماری ملکی سلامتی اور تشخص کو ٹھیس ناں پہنچائیں۔
میلہ کے آغاز اور اختتام میں ہمیشہ یاتری خوشیاں سمیٹتے ہیں اور ہماری مہمان نوازی کی تعریفیں کئے بنا نہیں رہ سکتے۔ منظم منصوبہ سازی سے اس جنم دن کی تقریبات کو مزید اچھے طریقے سے ساری   دنیا کے سامنے اپنے قومی تشخص کی بلندی اور سیاحت کی صورت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔           

بدھ، 29 جولائی، 2015

ودہولڈنگ ٹیکس کے جن کی حقیقت اور مسائل

کافی دنوں بعد دوبارہ ضمیر نے شور کیا آجکل ملک میں تاجروں اور حکومت کے درمیان ایک نیا شوشہ کھلا ہوا ہے جسے حکومت ودہولڈنگ ٹیکس اور تاجر قاتلانہ ٹیکس کا نام دے رہے ہیں.
کوشش کی اس پر تھوڑی رائے دے سکوں تاکہ دوستوں اور عوام کو اس معاملے کو سمجھنے میں آسانی ہو
بینکنگ میں ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاظ سب سے پہلے مشرف دور میں شروع ہوا جس میں بینک سے ایک خاص مقررہ رقم سے زائد کیش نکلوانے پر ٹیکس نافذ کردیا گیا اس کا مقصد کاروباری حضرات کی تمام لین دین کا ایک مناسب ریکارڈ بنانا تھا لیکن لوگوں نے اتنی مالیت کے سینکڑوں چیکس سائن کرنا شروع کردئیے گے پھر اسکو ایک فکس مالیت میں تبدیل کردیا کہ کیش 24 گھنٹوں میں اتنی مالیت سے زائد نکالنے پر ٹیکس نافذ ہو جائے گا اس سے کرپشن کا ایک نیا باب شروع ہوا جو کاروباری حضرات زمیندار سے اجناس لیتے تھے انہوں نے ڈبل کمائی شروع کردی. مختلف دوکانداروں اور تاجروں سے جو روزانہ کی بنیاد پر بینک میں رقم جمع کرواتے تھے ان کو اپنے اکاونٹ کا چیک دے دینا اور ان سے رقم لے کر وہ ٹیکس زمیندار سے بھی لے لینا اس طرح انہوں نے یہ کمائی کا نیا طریقہ بنا لیا وقت گزرتا گیا لوگ اس عادت پر پکے ہوگئے روزانہ ایسے عادت سے مجبور لوگ بینکوں میں کھڑے رہتے اور کیش جمع کروانے والوں سے کیش لینے کا انتظار کرتے رہتے اس میں بینک کے ملازمین بھی شامل ہو چکے تھے.
خیر جو سب سے فکریہ لمحہ پاکستان میں ہے وہ ٹیکس ریٹرنز فائل کرنا ہے جسے لوگ گناہ سمجھتے ہیں اور اس سے بھاگتے ہیں
موجودہ حکومت نے جو نیا ودہولڈنگ ٹیکس نافذ کیا ہے اس کا مقصد لوگوں کو مائل کرنا ہے کہ وہ اپنی سالانہ آمدن اخراجات کا گوشوارہ ایف بی آر کو جمع کروائے اگر آپکی آمدن ٹیکس سرکل میں نہیں آتی تو ایف بی آر آپ کو کھا نہیں جائے گا آپ زیرہ ٹیکس بھی جمع کروا سکتے ہیں.
اس نئے ٹیکس لگانے کا مقصد صرف لوگوں کو ٹیکس نیے میں لانا ہے اگر آپ ٹیکس ادا نہیں بھی کر سکتے آپکی آمدن اس شرح میں نہیں آتی تو آپ پھر بھی اپنے سالانہ گوشوارے ایف بی آر کو جمع کروائے بلکہ اگر آپ یوٹیلیٹی بلز کی مد میں جو ٹیکسز دے چکے ہیں وہ ریفنڈ بھی کروا سکتے ہیں
اس نئے ٹیکس سے صرف بہت سارے ایسے اکاونٹس بند ہو جائے جو جعلی شناخت پر کھلے ہوئے ہیں یاں پھر انکی اصلیت سامنے آئے گی لیکن ایک بات کا ڈر سب سے زیادہ ہے کہ اگر تاجر ایک بات پر اکٹھے ہو گئے تو بینکوں سے رقوم نکال لی جائے گی اور بینکوں اور حکومت کو دیوالیہ ہونے سے کوئی نہیں روک پائے گا ہنڈی کا کام شروع ہو جائے گا لین دین کیش میں ہوگا جس سے چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور حکومت جس کا ہدف ٹیکس بڑھانا وہ بالکل فارغ ہو جائے گا

تاجران بھی معافی دینے کو تیار نہیں
ایک چھوٹی سی مثال دوں گا امید ہے دوست بھائی ناراض نہیں ہونگے
ایک آڑھتی سالانہ تقریبا 2 ارب روپے سے زائد جنس کا لین دین کرتا ہے
جب وہ زمیندار کو کاشت کے سلسلے میں ہاتھ بٹاتا ہے تو ادویات اور کھاد کی قیمتوں میں اس سے ادھار کی مد میں ڈبل کمائی کرتا پ ہے پھر جب فصل اسکی آڑھت پر آ جاتی تو ادھار اور نقد خرید کا الگ الگ ریٹ ملے گا زمیندار کو پھر آڑھت کمیشن کاٹی جائے گی پھر مزدوری پھر تول میں کمی بیشی اور مزدور بھی معافی نہیں دے گا آڑھت کے تھڑے پر بچنے والی 2 سے 3 من کو وہ کسی کھاتے میں ہی نہیں ڈالے گا
سب سے آخر میں جب زمیندار کو رقم ادائیگی کا ٹائم آئے گا تو اس سے بینک کا ودہولڈنگ ٹیکس کاٹ لیا جائے گا اگر اس شرح کو صرف 2 فیصد بھی سمجھ لیا جائے تو آڑھتی نے 4 کروڑ کمایا اور وہ بھی زمینداروں کے تعاون سے لیکن اس کا ٹیکس شاید وہ 10 ہزار بھی ناں دے

اب سامنے ہیں ملک میں کام کرنے والی نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیاں جو ہر چیز پر سیلز ٹیکس لے رہی ہیں
ایک ڈیلر جو سیلز ٹیکس رجسٹرڈ نہیں ہے اس سے کمپنی 2 فیصد زائد سیلز ٹیکس وصول کرتی ہے لیکن یہ بوجھ عوام پر ہی پڑتا ہے
کیا بات ہے کہ پاکستان کی عوام جو سانس پر بھی سیلز ٹیکس دیتی لیکن حکومت تک نہیں پہنچتا تو اسکی حقیقت سنے
اگر ایک کمپنی کا روزانہ کا سیلز ٹیکس 50 لاکھ بنتا تو ایف بی آر کو وہ ایماندار نمائیندہ جو مانیٹرنگ کے لئے فیکٹری میں بیٹھا ہوتا وہ اپنی مخصوص فیس لے کر 50 لاکھ والے سیلز ٹیکس کو صرف 10 لاکھ تک کم کروانے میں اپنا کردار ادا کرتا مطلب عوام نے 50 لاکھ دے دیا لیکن حکومت کو ملا 10 لاکھ. اگر فیکٹری اس نمائندے کو 1 لاکھ بھی دے روزانہ تو 39 لاکھ تک کمپنی چور ہے عوام اور حکومت کی
لیکن اس طرف شاید کسی کا دھیان نہیں جاتا

اب جو مرکزی مسئلہ جس پر ملک میں ہڑتالوں اور جلسوں کا بازار گرم ہونے والا ہے اس میں ریاست اور حکومت کو بڑا کردار ادا کرنا ہو گا
کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس ٹیکس کو نافذ کرنے کے پیچھے جو عمل کارآمد ہے اس کی پہلے پریکٹس کی جاتی لوگوں کو بتایا جاتا کہ ٹیکس گوشوارے جمع کروانے اور ناں کروانے والوں میں کیا فرق ہے
کیا فوائد ہیں فائلرز کے اور کیا نقصانات ہیں اپنا گوشوارہ جمع ناں کروانے کے. اس کو باقاعدہ ایک کمپین کی صورت میں چلایا جاتا
الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر کمپین زور و شور سے شروع کی جاتی جیسے سموں کو ویریفائی کرنے کا کام کیا گیا. ایک خاص مقررہ مدت تاجران کے اصل نمائندگان کو ساتھ بٹھا کر طے کی جاتی لوگوں سے اس سلسلے میں رائے لی جاتی اور اگر اس خاص مدت کے بعد بھی لوگ گوشوارے جمع ناں کرواتے تو ایک بھاری ٹیکس نافذ کیا جاتا. اگر یہ اقدامات کئے جاتے تو حکومتی اقدامات ہی سراہے جاتے. دوسرا المیہ ایف بی آر کے نمائندگان کا ہے جو ٹیکسز چوری کے راستے خود دکھاتے اور عوام اور تاجروں کو اس حد تک ڈراتے کہ وہ شاید کسی بھی اتنا ناں ڈرتے ہو. ایف بی آر کو کرپشن اور چوروں سے پاک عوام اور تاجر دوست محکمہ بنایا جائے. ریاست اپنی ترجیحات لوگوں کی فلاح و بہبود پر رکھے ناں کہ جو ایم این ایز یا ایم ایز اے حکومتی حلقوں میں مضبوط ہیں انکے علاوے ترقی یافتہ اور اپوزیشن کے علاقے ترقی پذیر رہ جائے. عوام کو اعلی تعلیم اور صحت کے مراکز فراہم کئے جائے
بیوروکریسی جو صرف اور صرف عوام کے ٹیکسز کی تنخواہیں لیتی لیکن عوام کو اپنا غلام سمجھتی اس بے لگام گھوڑے کو قابو کرنا بہت ضروری ہے
اس کے علاوہ اور بہت سی ایسی تاجروں کی چوریاں اور ریاست کی کمزوریاں ہیں جن کو اگر میں شاید لکھنے لگوں تو الفاظ ختم ہوجائے لیکن یہ ختم ناں ہوں
یہ الفاظ صرف اس ودہولڈنگ کے لئے ہیں جو اس کو قاتلانہ سمجھ رہے ہیں اگر آپ سچے ہیں اور چوری نہیں کرتے تو آپ اپنا گوشوارہ جنع کروائے آپکو ایک پیسہ بھی ودہولڈنگ ٹیکس نہیں پڑے گا اور اگر پڑ چکا ہے اور آپ ٹیکس نیٹ میں نہیں ہے تو آج ہی اپنا گوشوارہ جمع کروائے اور حکومت سے اپنے ٹیکس کی مد میں ادا کی ہوئی رقم کو واپس لے سکتے ہیں. اور حکومت خدارا اس ایف بی آر کے ناگ کو عوام کے لئے رحمت کا وسیلہ بنائے ناں کے آگ کا گولا
اگر میرے الفاظ سے کسی تاجر بھائی کو تکلیف ہوئی ہو تو معذرت خواہ ہوں
اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین

اتوار، 14 جون، 2015

قائدین کے جھوٹ اور ثبوتوں کی اصلیت

ثبوت ثبوت ثبوت یہ وہ لفظ ہے جسکی بنیاد پر پاکستانی عوام ایک اذیت اور ذہنی کوفت میں مبتلا ہے. 2013 کے جنرل الیکشن ہوئے. ہر بندے کو یہ بات عیاں تھی کہ وہ پیپلز پارٹی جسے ضیاالحق ختم ناں کرسکا وہ خود بھٹو کے داماد اور شریک چئیر پرسن محترم آصف علی زرداری نے اپنے ہاتھوں سے مار دی تھی اور الیکشن میں پیپلز پارٹی کا وجود ناں ہونے کے برابر تھا. اور دوسری رہی پی ٹی آئی جس کی باگ دوڑ اب شجاع پاشا کے ہاتھ میں تھی. ن لیگ کی دن بدن مضبوطی اور پیپلز پارٹی کی کمزوری سے اس گروہ کو ایک خاص شکایت پیدا ہورہی تھی پھر اچانک منظم طریقے سے اچانک پاکستان کی نوجوان نسل کو تبدیلی کا نعرہ دے کر متوجہ کیا گیا. ن لیگ پر 30 سال حکومت کرنے کے شور سے نوجوانوں کو گمراہ کیا گیا. جلسوں جلوسوں میں جذبات کو ابھارنے کے لئے خاص طور طریقے اپنائے گئے. ڈانس گانے اور خاص کر نوجوان لڑکیوں کا ایک خاص قسم کا متوجہ ہونے کا طریقہ. اور سب سے بڑا اس میڈیا کا کردار جس پر میں پہلے اپنے الفاظ بیان کر چکا ہوں. اس میڈیا کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ ہر حال میں پی ٹی آئی کو پاکستان کی سب منظم اچھی محب وطن غریبوں کی دوست اور پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بنا دیا جائے. میڈیا نے بہت کوشش کی اور پی ٹی آئی کے پھٹے غبارے میں متواتر ہوا بھرنے کا عمل جاری رکھا اور لوگوں کے ذہنوں پر یہ بات مسلط کرنے میں کوئی کسر روا ناں رکھی. پی ٹی آئی کے چئیر پرسن محترم عمران خان کو جب اچانک اربوں کے فنڈز اور مفت میں بے انتہا مشہوری ملی تو وہ خود پریشان تھے اور ان سے عزت سنبھالی نہیں گئی.
الیکشن کمین شروع ہوئی ہر جماعت عوام میں چلی گئی. ن لیگ کے راہنما شہباز شریف نے اپنی شعلہ بیانی سے لوگوں کو قائل کیا اور ن لیگ نے الیکشن لڑنے کے طریقے کو انتہائی منظم انداز میں اپنایا تمام ٹکٹس باقاعدہ عوامی سروے کروا کی دی گئی اور انتہائی قابل اور جیتنے والے امیدوار چنے گئے کیونکہ پاکستان میں جہاں ٹکٹ کا ہونا ضروری ہے وہاں امیدوار کا مضبوط ہونا اس سے بھی ضروری ہے. پی ٹی آئی میڈیا پر اپنی مشہوری کی وجہ سے خوش فہمی کا شکار تھی اور ٹوئیٹر ٹرینڈز پی ٹی آئی کا کلین سویپ کروائے بیٹھے تھے.
11 مئی کا دن آیا الیکشن تاریخ آن پہنچی پولنگ شروع ہوئی میں نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا باہر نکلا مجھے میرے والد محترم کا فون آیا کہ این اے 110 میں پیپلز پارٹی کی امیدوار فردوس عاشق اعوان ن لیگ کے امیدوار خواجہ آصف کے خلاف پی ٹی آئی کے امیدوار کے حق میں بیٹھ گئی. 11 مئی کا دن خیر خیریت سے گزرا شام 6 بجے سے مختلف حلقوں سے رزلٹس آنا شروع ہو گئے اور رات 11 بجے تک تقریبا 70 فیصد سے زائد رزلٹس کلئیر ہو چکے تھے اور ن لیگ 1997 کے الیکشن کی طرح ایک بار پھر پاکستان کے وفاق کے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری. پنجاب سے کلین سویپ. بلوچستان میں مخلوط حکومت سندھ سے بھی بمائندگی اور پختونخواہ سے بھی ٹھیک ٹھاک نمائندگی ملی.
پیپلز پارٹی صرف سندھ تک محدود ہوگئی. پی ٹی آئی پختونخواہ میں طالبان بھائیوں کی بدولت حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی
سندھ سے انہیں 4 صوبائی اور 1 قومی حلقے کی سیٹ ملی اسی طرح پنجاب بھر میں 1 درجن سیٹیں اور بلوچستان سے بالکل خالی
اپنے آپ کو سب سے بڑی پارٹی کلیم کرنے والی پارٹی کی 55 حلقوں میں ضمانتیں ضبط ہوئیں. ضمانت ضبط تب ہوتی ہے جب امیدوار کاسٹ گئے ووٹس کا 10 فیصد سے کم لینے میں ناکام ہوتا ہے اور میرا اپنا شہر جس میں پی ٹی آئی کی قومی اور صوبائی دونوں حلقوں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں اس کے علاوہ 90 سیٹوں پر پی ٹی آئی دوسرے کی بجائے تیسرے نمبر آئی اور خواب دیکھا تھا کلین سویپ کا. میڈیا نے اتنا زیادہ اس کو اہمیت دے دی تھی کہ چئیرمین عمران خان دن رات سوتے جاگتے وزیراعظم بننے کا خواب دیکھتے تھے اور شیروانی سلوا کر بیٹھے ہوئے تھے. رزلٹس مکمل ہوئے ن لیگ 2 تہائی اکثریت سے وفاق میں آ گئی اور سب سے اعلی ظرفی بلوچستان میں جماعتوں کو قومی دھارے میں لانے کے لئے وزارت اعلی کی قربانی دی. ملک اپنی ڈگر پر چل پڑا پھر ایک دن اچانک شوکت خانم ہسپتال جو عوام کی زکوتہ اور صدقات پر چلتا ہے وہاں سے سب سے غریب لیڈر عمران خان کا ایک بار پھر نیا کام سونپا گیا اور وہ تھا اس حکومت کی کمزوری کا یا خاتمے کا عمل. میڈیا کو حسب معمول ہدایات دے کر ایک تماشہ کھڑا کر دیا گیا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اور پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چوری کیا گیا. اضطراب بڑھتا گیا میاں صاحب اس طرف دھیان دینے کی بجائے اپنے کام میں لگے رہے اور ملک کی سلامتی اور بقا کے لئے دن رات محنت کررہے تھے. ٹائم گزرتا گیا دھاندلی کا شوشہ اب بڑھنا شروع ہوا. چیف جسٹس افتخار حسین چودھری کے ریٹائر ہوتے ہی وہ گینگ پی ٹی آئی کا سرغنہ اور چیف جسٹس اور نواز لیگ کا سب سے بڑا دشمن مکمل حرکت میں آ گیا. الزامات کی بوچھاڑ شروع ہوئی 4 حلقوں کو بنیاد بنا کر ڈرامہ شروع کردیا گیا. چیف جسٹس اور خلیل رمدے پر الیکشن چوری پلان کے ماسٹر مائینڈ ہونے کا الزام لگا. نجم سیٹھی سابقہ نگران وزیراعلی پر 35 پنکچرز لگانے کا الزام
آئی بی کے بریگیڈیئر پر الزام . الیکشن کمیشن پر الزام اور سب سے آخر میں زرداری بھائی کی بات پکڑتے ہوئے آر اوز پر الزام لگا دیا گیا. یاہں ایک بات یاد رکھی جائے 2013 کے الیکشن میں آراوز جوڈیشری سے لینے کی درخواست محترم عمران خان نے ہی کی تھی. خان صاحب ٹی وی پر آ کر مسلسل نت نئے الزامات لگاتے رہے. اور انکی سچائی پر کہتے کہ ہمارے پاس سارے ثبوت موجود ہیں نجم سیٹھی کی 35 پنکچرز والی ٹیپ موجود ہے اور جس بات کا جواب مانگا جائے وہبیہہ کہ ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں اور سب سے بڑا الزام اردو بازار سے بیلٹ پیپرز چھپنے کا لگایا جس پر موصوف کہتے تھے کہ ہمارے پاس اس پرنٹنگ پریس کا بل موجود ہے جہاں سے ایکسٹرا بیلٹ پیپرز چھاپے گئے
12 مئی 2014 کا دن آیا حکومت کی جیت کو 1 سال مکمل ہوا اور قائد مہارانی محترم طاہر القادری صاحب ایک بار پھر میدان میں کود پڑے خطاب کیا کہ اٹھو اس انقلاب کی شکل میں آور لپیٹ دو اس نظام کو . حسب معمول حکومت نے اس سازش کو سمجھنے میں دیر لگائی انہی دنوں پاکستان حکومت اور افوج پاک نے دہشت گردوں اور پی ٹی آئی کی حکومتی الائنس طالبان کے خلاف ضرب عزب شروع کیا
خان صاحب اب خاموش ہو گئے لیکن ان کا اضطراب جاری تھا اور پھر شروع ہوا اصل کھیل. 17 جون کو حکومت پنجاب کی سب سے بڑی نااہلی ہوئی اور ماڈل ٹاوں میں معمولی سے مسئلے کا ایسا بھیانک رزلٹ نکلا کہ پورا ملک ہیجان میں آ گیا 17 لوگ ماڈل ٹاؤن میں مارے گئے 1 ماہ پہلے طاہر القادری جو نا جانے کس بنا پر حکومت کو اور نثام کو لپیٹنے کی باتیں کرتا تھا اچانک اسکے جسم میں بے پناہ طاقت آ گئی اسکی زبان کو الفاظ مل گئے اور وہ پاکستان کی اڑان کی تیاری کرنے لگا اور اگلے ہی دن خان صاحب نے بھکر جلسے میں دھاندلی کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کردیا. حکومت نے اس معاملے کو بھی زیادہ سیریس انداز میں نہیں لیا اور پنجاب پولیس بری طرح ناکام ہوئی معاملات کو سنبھالنے میں. رانا ثناءاللہ کا استعفی ہوگیا
اب طاہر القادری صاحب کا موقف تھا کہ ساری شریف فیملی اور تمام وزرا پر ایف آئی آر دی جائے. باتوں کو سلجھایا نا جاسکا اور حسب پلان عمران خان اور طاہر القادری نے 14 اگست کو لانگ مارچ اکٹھے کرنے کا اعلان کردیا. 14 اگست آ گئی ساری گیم پلان تھی . پی ٹی آئی کو مارشل لا کے سب سے پیارے بچے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور قادری کو ایم کیو ایم کے گورنر اور پنجاب کے متنازعہ اور پلان میں شامل گورنر چوہدری سرور کی بدولت اجازت مل گئی
دونوں جماعتیں نظام کو لپیٹنے اور ٹیکنو کریٹ گورنمنٹ سے کم کسی بات پر آمادہ ہی نہیں تھیں
13 اگست کو وزیر اعظم نے سپریم کورٹ کو خط لکھا کہ ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے اور انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کی جائیں. لیکن خان صاحب کو جو اشارے اور ہدایات مل رہی تھیں وہ اب نواز شریف کے استعفی سے کم کسی صورت بات ہی نہیں کررہا تھا. 10 لاکھ لوگوں کو لیجانے کا اعلان 1 لاکھ موٹر سائیکل جس میں سے صرف 99 ہزار 900 کم تھیں اسلام آباد روا دواں تھیں
قائد انتشار عمران خان اور قائد افراتفری طاہر القادری اسلام آباد پہنچ گئے
راستے میں ہونے والے واقعات کی بدولت گوجرانوالہ سے آگے جانے کی سپیڈ 120 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کر گئی
2 عدد وی آئی پی کنٹینرز اسلام آباد کی شاہراہ پر لگا دئے گئے
اور اب شروع ہوئے نئے الزامات اور نئے مطالبے
حکومت جو ماڈل ٹاؤن واقعہ سے ڈر چکی تھی کیونکہ اسے اندازہ ہوچکا تھا ان دونوں کے پیچھے کوئی قوت بر سر پیکار ہے لیکن اس ملک کی جمہوریت ابھی اتنی مضبوط نہیں کہ اسے بے نقاب کیا جائے
معاملات سلجھانے کے لئے بہت سے فریق میدان میں کودے
خان صاحب اور قادری کسی کی بات سننے کو تیار کہاں تھے لیکن اچانک ایک دن آرمی چیف کی آواز پڑی اور دونوں قائدین ملنگوں کی طرح بھاگتے گئے اور پہلے آبپارہ سے ہوتے گئے اب یہاں میرے الفاظ بھی کمزور ہیں مکمل نہیں لکھ سکتا
آرمی چیف نے انہیں نواز شریف کے استعفی کے سوا ہر بات کی یقین دھانی کروائی لیکن وہ انگلی جو خان صاحب مسلسل اٹھا رہے تھے وہ شاید ٹوٹی تو نہیں لیکن کمزور ضرور ہوچکی تھی
وہاں سے مایوسی ہوئی تو اب شروع ہوا الزامات کا نیا انقلاب
افتخار حسین چودھری.  خلیل الرحمن رمدے، نجم سیٹھی کے 35 پنکچرز، اردو بازار کے بیلٹ پیپرز ، ایم کیو ایم کی ایم این اے کے قتل میں ملوث 2 وفاقی وزرا، 35 پنکچرز کی ٹیپ، آئی بی کا بریگیڈئر،  اور روزانہ کی بنیاد پر اتنے الزامات کے پچھلے دن کی بات بھول جاتی. جب کسی طرح سے بات ناں بنی تو شروع ہوا دوسرا فیز جو تھا پارلیمنٹ پر حملہ کہ اس صورت میں لاشیں گرے گی اور مارشل لا کا نفاظ آسان ہو جائے گا
پارلیمنٹ پر حملہ ہوا. پولیس کو گولی ناں چلانے کی ہدایت تھی ہزاروں لوگوں نے آخر کار پارلیمنٹ پر قبضہ کرلیا لیکن کیا ہوا  اگلے دن سازش بے نقاب . بدبو دار شراکت جو قائد انتشار اور قائد افراتفری کا تھی سب سامنے آ گئی. آئی ایس آئی. پاشا ، چوہدری سرور، اور سارا پلان ایک معذور بڈھے نے نکال پھینکا. آئی ایس پی آر سے روزانہ ہونے والی ٹویٹس اچانک غائب ہو گئیں. موجودہ چیف جسٹس کا نام بھی سامنے آیا
کسی طرف سے جاوید ہاشمی کے انکشافات کا انکار ناں ہوسکا.
اب حکومت کسی طرح سے ان کی بات سننے پر نہیں آ رہی تھی. انکی منتین سماجت اب ہر کوئی دیکھتا تھا.
عید قرباں آئی اور 14 اگست کی خوشیوں کی طرح اس عید پر بھی میڈیا کی مہربانیوں سے عوام نے اذیت ہی لی
دھرنا ناکام ہوگیا الزامات بڑھتے گئے
اب شروع ہوا تیسرا فیز جلسوں کا. میڈیا نے ہر شہر کو جگا دیا. ہر جلسے میں میں قائد انتشار ایک پروں والے رکشے پر جاتے اور ایک خاص ٹولہ جنکا تھڑکتا جسم لوگوں کو مائل کرنے میں کوئی ثانی نہیں رکھتا تھا جلسے سے 1 دن پہلے پہنچ جاتا تھا. ہر جگہ نت نئے الزامات اسی سپیڈ سے لگتے تھے لیکن جب ثبوتوں کی بات کی جاتی تو خاموشی
یہ مرحلہ بھی ناکام ہوا اور شروع ہوا انتشار برپا کرنے کا سب سے بڑا مرحلہ. قائد افراتفری کافی کرواچکے تھے. کرائے پر لائے گئے مزدور اور لوگ اب گھروں کو بھاگ رہے تھے اس لئے انہوں نے غنیمت جانی دل کی تکلیف لگوائی اور کنیڈا کے سفر پر روانہ ہو گئے کزن کزن سے بچھڑ گیا اور شراکت ٹوٹ گئی
میڈیا ابھی تک ناکام تھا کسی بھی بڑی تبدیلی کے لئے ان کا کیا دھرا ناکام ہو رہا تھا
کراچی لاہور اور فیص آباد میں انتشار کی کال اور زبردستی دکانیں بند کروانے میں جانیں بھی گئیں اور لوگ زخمی بھی ہوئے
16 دسمبر کا ایک دلخراش واقعہ پیش آیا. معصوم بچے معصوم کلیاں کھلنے سے پہلے مرجھا گئیں. 18 دسمبر کو ایک مضبوط ترین ڈنڈے نے دھرنا ختم کروادیا اور قائد انتشار کے چاروں پلان فیل ہوگئے
لیکن کیا کہنے اس میڈیا کے جس کو ایک لڑکی نیہا انصاری بے نقاب کر گئی. میڈیا کے گونگے بہرے دانشور اس آرٹیکل کا جواب مانگنے پر بلاک کر دیتے تھے جن میں سے مشہور زمانہ سما نیوز کے اینکر اور پی ٹی وی کے ایم ڈی کے امیدوار ندیم ملک سر فہرست تھے.
معاملات چلتے رہے الزامات اسی سپیڈ سے لگتے رہے
آخر کار حکومت اور پی ٹی آئی کا معاہدہ ہو گیا اور صدارتی آرڈیننس سے جوڈیشل کمیشن تشکیل میں آ گیا
پی ٹی آئی نے جو الزامات لگائے تھے اب ان ثبوتوں کو پیش کرنے کا وقت آ چکا تھا
کاروائی شروع ہوگئی
1 لاکھ چالیس ہزار صفحات پر مشتمل ثبوت جوڈیشل کمیشن میں جمع کروا دئیے گئے. یہ کیا ہوا عوام سے درخواستیں کرنا شروع کر دی اگر کسی کے پاس دھاندلی کے ثبوت ہیں تو ہمیں جمع کروا کر ثواب حاصل کرے
بیلٹ پیپرز اردو بازار سے چھپے. ناکامی ہوئی
چیف جسٹس. بلانے سے بھی ڈر گئے
رمدے. نام بھی بھول گیا.
سیٹھی آیا. 35 پنکچرز غائب
آراوز آئے. ان سے ہم سوالات نہیں پوچھے گے
ہر بات میں ناکامی کے بعد ایک نیا شوشہ مل گیا اور وہ تھا فارم 15 کا
فارم 15 میں بیلٹ پیپرز کا سارا حساب شامل ہوتا ہے
لیکن جب تحقیق ہوئی تو 44 فیصد فارم 15 پی ٹی آئی کے حلقوں سے غائب نکلے. اب پی ٹی آئی کے پاس کچھ باقی نہیں بچا. فارم 15 کی مسنگ کو انہوں دھاندلی قرار دے دیا. اور سب سے آخر میں اب درخواست کر دی کہ ہم نے جو کہنا تھا کہہ دیا اب کمیشن خود انکوائری کرے. اسکے 2 مطلب ہیں یاں تو پی ٹی آئی خفت مٹانے کے لئے اب اس بات پر آگئی ہے ہمارے پاس جو الزامات تھے انکے ثبوت تو دور کی بات ان پر دوبارہ بات کرنا بھی پکڑوا سکتا ہے اور دوسری یہ کہ 30 سے 45 دن میں کاروائی مکمل کروانے والے معاہدے کو اتنا لمبا کردیا جائے کہ سپریم کورٹ ہر کام چھوڑ کر روزانہ 2 آر اوز بلائے اور 2018 اسی طرح آ جائے اور حسب روایت دھاندلی چورن بیچتے رہے اور 2018 کا الیکشن صرف دھاندلی کی بنیاد پر حصہ لے کیونکہ پختونخواہ کی حکومت کے حالات موجودہ اور سابقہ تمام حکومتوں سے کمزور ہے. اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ چیف جسٹس جاوید ہاشمی کی باقی تمام باتوں کی تصدیق ہونے کے بعد اس بات کی بھی تصدیق کرے گے اور اپنا کردار ادا کرتے ہوئے عوام کے جذبات سے مزید کگیلا جائے گا اور ملک میں اضطراب اور انتشار اور افراتفری کا کھیل جاری رہے گا.
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آمین )