ثبوت ثبوت ثبوت یہ وہ لفظ ہے جسکی بنیاد پر پاکستانی عوام ایک اذیت اور ذہنی کوفت میں مبتلا ہے. 2013 کے جنرل الیکشن ہوئے. ہر بندے کو یہ بات عیاں تھی کہ وہ پیپلز پارٹی جسے ضیاالحق ختم ناں کرسکا وہ خود بھٹو کے داماد اور شریک چئیر پرسن محترم آصف علی زرداری نے اپنے ہاتھوں سے مار دی تھی اور الیکشن میں پیپلز پارٹی کا وجود ناں ہونے کے برابر تھا. اور دوسری رہی پی ٹی آئی جس کی باگ دوڑ اب شجاع پاشا کے ہاتھ میں تھی. ن لیگ کی دن بدن مضبوطی اور پیپلز پارٹی کی کمزوری سے اس گروہ کو ایک خاص شکایت پیدا ہورہی تھی پھر اچانک منظم طریقے سے اچانک پاکستان کی نوجوان نسل کو تبدیلی کا نعرہ دے کر متوجہ کیا گیا. ن لیگ پر 30 سال حکومت کرنے کے شور سے نوجوانوں کو گمراہ کیا گیا. جلسوں جلوسوں میں جذبات کو ابھارنے کے لئے خاص طور طریقے اپنائے گئے. ڈانس گانے اور خاص کر نوجوان لڑکیوں کا ایک خاص قسم کا متوجہ ہونے کا طریقہ. اور سب سے بڑا اس میڈیا کا کردار جس پر میں پہلے اپنے الفاظ بیان کر چکا ہوں. اس میڈیا کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ ہر حال میں پی ٹی آئی کو پاکستان کی سب منظم اچھی محب وطن غریبوں کی دوست اور پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بنا دیا جائے. میڈیا نے بہت کوشش کی اور پی ٹی آئی کے پھٹے غبارے میں متواتر ہوا بھرنے کا عمل جاری رکھا اور لوگوں کے ذہنوں پر یہ بات مسلط کرنے میں کوئی کسر روا ناں رکھی. پی ٹی آئی کے چئیر پرسن محترم عمران خان کو جب اچانک اربوں کے فنڈز اور مفت میں بے انتہا مشہوری ملی تو وہ خود پریشان تھے اور ان سے عزت سنبھالی نہیں گئی.
الیکشن کمین شروع ہوئی ہر جماعت عوام میں چلی گئی. ن لیگ کے راہنما شہباز شریف نے اپنی شعلہ بیانی سے لوگوں کو قائل کیا اور ن لیگ نے الیکشن لڑنے کے طریقے کو انتہائی منظم انداز میں اپنایا تمام ٹکٹس باقاعدہ عوامی سروے کروا کی دی گئی اور انتہائی قابل اور جیتنے والے امیدوار چنے گئے کیونکہ پاکستان میں جہاں ٹکٹ کا ہونا ضروری ہے وہاں امیدوار کا مضبوط ہونا اس سے بھی ضروری ہے. پی ٹی آئی میڈیا پر اپنی مشہوری کی وجہ سے خوش فہمی کا شکار تھی اور ٹوئیٹر ٹرینڈز پی ٹی آئی کا کلین سویپ کروائے بیٹھے تھے.
11 مئی کا دن آیا الیکشن تاریخ آن پہنچی پولنگ شروع ہوئی میں نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا باہر نکلا مجھے میرے والد محترم کا فون آیا کہ این اے 110 میں پیپلز پارٹی کی امیدوار فردوس عاشق اعوان ن لیگ کے امیدوار خواجہ آصف کے خلاف پی ٹی آئی کے امیدوار کے حق میں بیٹھ گئی. 11 مئی کا دن خیر خیریت سے گزرا شام 6 بجے سے مختلف حلقوں سے رزلٹس آنا شروع ہو گئے اور رات 11 بجے تک تقریبا 70 فیصد سے زائد رزلٹس کلئیر ہو چکے تھے اور ن لیگ 1997 کے الیکشن کی طرح ایک بار پھر پاکستان کے وفاق کے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری. پنجاب سے کلین سویپ. بلوچستان میں مخلوط حکومت سندھ سے بھی بمائندگی اور پختونخواہ سے بھی ٹھیک ٹھاک نمائندگی ملی.
پیپلز پارٹی صرف سندھ تک محدود ہوگئی. پی ٹی آئی پختونخواہ میں طالبان بھائیوں کی بدولت حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی
سندھ سے انہیں 4 صوبائی اور 1 قومی حلقے کی سیٹ ملی اسی طرح پنجاب بھر میں 1 درجن سیٹیں اور بلوچستان سے بالکل خالی
اپنے آپ کو سب سے بڑی پارٹی کلیم کرنے والی پارٹی کی 55 حلقوں میں ضمانتیں ضبط ہوئیں. ضمانت ضبط تب ہوتی ہے جب امیدوار کاسٹ گئے ووٹس کا 10 فیصد سے کم لینے میں ناکام ہوتا ہے اور میرا اپنا شہر جس میں پی ٹی آئی کی قومی اور صوبائی دونوں حلقوں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں اس کے علاوہ 90 سیٹوں پر پی ٹی آئی دوسرے کی بجائے تیسرے نمبر آئی اور خواب دیکھا تھا کلین سویپ کا. میڈیا نے اتنا زیادہ اس کو اہمیت دے دی تھی کہ چئیرمین عمران خان دن رات سوتے جاگتے وزیراعظم بننے کا خواب دیکھتے تھے اور شیروانی سلوا کر بیٹھے ہوئے تھے. رزلٹس مکمل ہوئے ن لیگ 2 تہائی اکثریت سے وفاق میں آ گئی اور سب سے اعلی ظرفی بلوچستان میں جماعتوں کو قومی دھارے میں لانے کے لئے وزارت اعلی کی قربانی دی. ملک اپنی ڈگر پر چل پڑا پھر ایک دن اچانک شوکت خانم ہسپتال جو عوام کی زکوتہ اور صدقات پر چلتا ہے وہاں سے سب سے غریب لیڈر عمران خان کا ایک بار پھر نیا کام سونپا گیا اور وہ تھا اس حکومت کی کمزوری کا یا خاتمے کا عمل. میڈیا کو حسب معمول ہدایات دے کر ایک تماشہ کھڑا کر دیا گیا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اور پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چوری کیا گیا. اضطراب بڑھتا گیا میاں صاحب اس طرف دھیان دینے کی بجائے اپنے کام میں لگے رہے اور ملک کی سلامتی اور بقا کے لئے دن رات محنت کررہے تھے. ٹائم گزرتا گیا دھاندلی کا شوشہ اب بڑھنا شروع ہوا. چیف جسٹس افتخار حسین چودھری کے ریٹائر ہوتے ہی وہ گینگ پی ٹی آئی کا سرغنہ اور چیف جسٹس اور نواز لیگ کا سب سے بڑا دشمن مکمل حرکت میں آ گیا. الزامات کی بوچھاڑ شروع ہوئی 4 حلقوں کو بنیاد بنا کر ڈرامہ شروع کردیا گیا. چیف جسٹس اور خلیل رمدے پر الیکشن چوری پلان کے ماسٹر مائینڈ ہونے کا الزام لگا. نجم سیٹھی سابقہ نگران وزیراعلی پر 35 پنکچرز لگانے کا الزام
آئی بی کے بریگیڈیئر پر الزام . الیکشن کمیشن پر الزام اور سب سے آخر میں زرداری بھائی کی بات پکڑتے ہوئے آر اوز پر الزام لگا دیا گیا. یاہں ایک بات یاد رکھی جائے 2013 کے الیکشن میں آراوز جوڈیشری سے لینے کی درخواست محترم عمران خان نے ہی کی تھی. خان صاحب ٹی وی پر آ کر مسلسل نت نئے الزامات لگاتے رہے. اور انکی سچائی پر کہتے کہ ہمارے پاس سارے ثبوت موجود ہیں نجم سیٹھی کی 35 پنکچرز والی ٹیپ موجود ہے اور جس بات کا جواب مانگا جائے وہبیہہ کہ ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں اور سب سے بڑا الزام اردو بازار سے بیلٹ پیپرز چھپنے کا لگایا جس پر موصوف کہتے تھے کہ ہمارے پاس اس پرنٹنگ پریس کا بل موجود ہے جہاں سے ایکسٹرا بیلٹ پیپرز چھاپے گئے
12 مئی 2014 کا دن آیا حکومت کی جیت کو 1 سال مکمل ہوا اور قائد مہارانی محترم طاہر القادری صاحب ایک بار پھر میدان میں کود پڑے خطاب کیا کہ اٹھو اس انقلاب کی شکل میں آور لپیٹ دو اس نظام کو . حسب معمول حکومت نے اس سازش کو سمجھنے میں دیر لگائی انہی دنوں پاکستان حکومت اور افوج پاک نے دہشت گردوں اور پی ٹی آئی کی حکومتی الائنس طالبان کے خلاف ضرب عزب شروع کیا
خان صاحب اب خاموش ہو گئے لیکن ان کا اضطراب جاری تھا اور پھر شروع ہوا اصل کھیل. 17 جون کو حکومت پنجاب کی سب سے بڑی نااہلی ہوئی اور ماڈل ٹاوں میں معمولی سے مسئلے کا ایسا بھیانک رزلٹ نکلا کہ پورا ملک ہیجان میں آ گیا 17 لوگ ماڈل ٹاؤن میں مارے گئے 1 ماہ پہلے طاہر القادری جو نا جانے کس بنا پر حکومت کو اور نثام کو لپیٹنے کی باتیں کرتا تھا اچانک اسکے جسم میں بے پناہ طاقت آ گئی اسکی زبان کو الفاظ مل گئے اور وہ پاکستان کی اڑان کی تیاری کرنے لگا اور اگلے ہی دن خان صاحب نے بھکر جلسے میں دھاندلی کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کردیا. حکومت نے اس معاملے کو بھی زیادہ سیریس انداز میں نہیں لیا اور پنجاب پولیس بری طرح ناکام ہوئی معاملات کو سنبھالنے میں. رانا ثناءاللہ کا استعفی ہوگیا
اب طاہر القادری صاحب کا موقف تھا کہ ساری شریف فیملی اور تمام وزرا پر ایف آئی آر دی جائے. باتوں کو سلجھایا نا جاسکا اور حسب پلان عمران خان اور طاہر القادری نے 14 اگست کو لانگ مارچ اکٹھے کرنے کا اعلان کردیا. 14 اگست آ گئی ساری گیم پلان تھی . پی ٹی آئی کو مارشل لا کے سب سے پیارے بچے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور قادری کو ایم کیو ایم کے گورنر اور پنجاب کے متنازعہ اور پلان میں شامل گورنر چوہدری سرور کی بدولت اجازت مل گئی
دونوں جماعتیں نظام کو لپیٹنے اور ٹیکنو کریٹ گورنمنٹ سے کم کسی بات پر آمادہ ہی نہیں تھیں
13 اگست کو وزیر اعظم نے سپریم کورٹ کو خط لکھا کہ ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے اور انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کی جائیں. لیکن خان صاحب کو جو اشارے اور ہدایات مل رہی تھیں وہ اب نواز شریف کے استعفی سے کم کسی صورت بات ہی نہیں کررہا تھا. 10 لاکھ لوگوں کو لیجانے کا اعلان 1 لاکھ موٹر سائیکل جس میں سے صرف 99 ہزار 900 کم تھیں اسلام آباد روا دواں تھیں
قائد انتشار عمران خان اور قائد افراتفری طاہر القادری اسلام آباد پہنچ گئے
راستے میں ہونے والے واقعات کی بدولت گوجرانوالہ سے آگے جانے کی سپیڈ 120 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کر گئی
2 عدد وی آئی پی کنٹینرز اسلام آباد کی شاہراہ پر لگا دئے گئے
اور اب شروع ہوئے نئے الزامات اور نئے مطالبے
حکومت جو ماڈل ٹاؤن واقعہ سے ڈر چکی تھی کیونکہ اسے اندازہ ہوچکا تھا ان دونوں کے پیچھے کوئی قوت بر سر پیکار ہے لیکن اس ملک کی جمہوریت ابھی اتنی مضبوط نہیں کہ اسے بے نقاب کیا جائے
معاملات سلجھانے کے لئے بہت سے فریق میدان میں کودے
خان صاحب اور قادری کسی کی بات سننے کو تیار کہاں تھے لیکن اچانک ایک دن آرمی چیف کی آواز پڑی اور دونوں قائدین ملنگوں کی طرح بھاگتے گئے اور پہلے آبپارہ سے ہوتے گئے اب یہاں میرے الفاظ بھی کمزور ہیں مکمل نہیں لکھ سکتا
آرمی چیف نے انہیں نواز شریف کے استعفی کے سوا ہر بات کی یقین دھانی کروائی لیکن وہ انگلی جو خان صاحب مسلسل اٹھا رہے تھے وہ شاید ٹوٹی تو نہیں لیکن کمزور ضرور ہوچکی تھی
وہاں سے مایوسی ہوئی تو اب شروع ہوا الزامات کا نیا انقلاب
افتخار حسین چودھری. خلیل الرحمن رمدے، نجم سیٹھی کے 35 پنکچرز، اردو بازار کے بیلٹ پیپرز ، ایم کیو ایم کی ایم این اے کے قتل میں ملوث 2 وفاقی وزرا، 35 پنکچرز کی ٹیپ، آئی بی کا بریگیڈئر، اور روزانہ کی بنیاد پر اتنے الزامات کے پچھلے دن کی بات بھول جاتی. جب کسی طرح سے بات ناں بنی تو شروع ہوا دوسرا فیز جو تھا پارلیمنٹ پر حملہ کہ اس صورت میں لاشیں گرے گی اور مارشل لا کا نفاظ آسان ہو جائے گا
پارلیمنٹ پر حملہ ہوا. پولیس کو گولی ناں چلانے کی ہدایت تھی ہزاروں لوگوں نے آخر کار پارلیمنٹ پر قبضہ کرلیا لیکن کیا ہوا اگلے دن سازش بے نقاب . بدبو دار شراکت جو قائد انتشار اور قائد افراتفری کا تھی سب سامنے آ گئی. آئی ایس آئی. پاشا ، چوہدری سرور، اور سارا پلان ایک معذور بڈھے نے نکال پھینکا. آئی ایس پی آر سے روزانہ ہونے والی ٹویٹس اچانک غائب ہو گئیں. موجودہ چیف جسٹس کا نام بھی سامنے آیا
کسی طرف سے جاوید ہاشمی کے انکشافات کا انکار ناں ہوسکا.
اب حکومت کسی طرح سے ان کی بات سننے پر نہیں آ رہی تھی. انکی منتین سماجت اب ہر کوئی دیکھتا تھا.
عید قرباں آئی اور 14 اگست کی خوشیوں کی طرح اس عید پر بھی میڈیا کی مہربانیوں سے عوام نے اذیت ہی لی
دھرنا ناکام ہوگیا الزامات بڑھتے گئے
اب شروع ہوا تیسرا فیز جلسوں کا. میڈیا نے ہر شہر کو جگا دیا. ہر جلسے میں میں قائد انتشار ایک پروں والے رکشے پر جاتے اور ایک خاص ٹولہ جنکا تھڑکتا جسم لوگوں کو مائل کرنے میں کوئی ثانی نہیں رکھتا تھا جلسے سے 1 دن پہلے پہنچ جاتا تھا. ہر جگہ نت نئے الزامات اسی سپیڈ سے لگتے تھے لیکن جب ثبوتوں کی بات کی جاتی تو خاموشی
یہ مرحلہ بھی ناکام ہوا اور شروع ہوا انتشار برپا کرنے کا سب سے بڑا مرحلہ. قائد افراتفری کافی کرواچکے تھے. کرائے پر لائے گئے مزدور اور لوگ اب گھروں کو بھاگ رہے تھے اس لئے انہوں نے غنیمت جانی دل کی تکلیف لگوائی اور کنیڈا کے سفر پر روانہ ہو گئے کزن کزن سے بچھڑ گیا اور شراکت ٹوٹ گئی
میڈیا ابھی تک ناکام تھا کسی بھی بڑی تبدیلی کے لئے ان کا کیا دھرا ناکام ہو رہا تھا
کراچی لاہور اور فیص آباد میں انتشار کی کال اور زبردستی دکانیں بند کروانے میں جانیں بھی گئیں اور لوگ زخمی بھی ہوئے
16 دسمبر کا ایک دلخراش واقعہ پیش آیا. معصوم بچے معصوم کلیاں کھلنے سے پہلے مرجھا گئیں. 18 دسمبر کو ایک مضبوط ترین ڈنڈے نے دھرنا ختم کروادیا اور قائد انتشار کے چاروں پلان فیل ہوگئے
لیکن کیا کہنے اس میڈیا کے جس کو ایک لڑکی نیہا انصاری بے نقاب کر گئی. میڈیا کے گونگے بہرے دانشور اس آرٹیکل کا جواب مانگنے پر بلاک کر دیتے تھے جن میں سے مشہور زمانہ سما نیوز کے اینکر اور پی ٹی وی کے ایم ڈی کے امیدوار ندیم ملک سر فہرست تھے.
معاملات چلتے رہے الزامات اسی سپیڈ سے لگتے رہے
آخر کار حکومت اور پی ٹی آئی کا معاہدہ ہو گیا اور صدارتی آرڈیننس سے جوڈیشل کمیشن تشکیل میں آ گیا
پی ٹی آئی نے جو الزامات لگائے تھے اب ان ثبوتوں کو پیش کرنے کا وقت آ چکا تھا
کاروائی شروع ہوگئی
1 لاکھ چالیس ہزار صفحات پر مشتمل ثبوت جوڈیشل کمیشن میں جمع کروا دئیے گئے. یہ کیا ہوا عوام سے درخواستیں کرنا شروع کر دی اگر کسی کے پاس دھاندلی کے ثبوت ہیں تو ہمیں جمع کروا کر ثواب حاصل کرے
بیلٹ پیپرز اردو بازار سے چھپے. ناکامی ہوئی
چیف جسٹس. بلانے سے بھی ڈر گئے
رمدے. نام بھی بھول گیا.
سیٹھی آیا. 35 پنکچرز غائب
آراوز آئے. ان سے ہم سوالات نہیں پوچھے گے
ہر بات میں ناکامی کے بعد ایک نیا شوشہ مل گیا اور وہ تھا فارم 15 کا
فارم 15 میں بیلٹ پیپرز کا سارا حساب شامل ہوتا ہے
لیکن جب تحقیق ہوئی تو 44 فیصد فارم 15 پی ٹی آئی کے حلقوں سے غائب نکلے. اب پی ٹی آئی کے پاس کچھ باقی نہیں بچا. فارم 15 کی مسنگ کو انہوں دھاندلی قرار دے دیا. اور سب سے آخر میں اب درخواست کر دی کہ ہم نے جو کہنا تھا کہہ دیا اب کمیشن خود انکوائری کرے. اسکے 2 مطلب ہیں یاں تو پی ٹی آئی خفت مٹانے کے لئے اب اس بات پر آگئی ہے ہمارے پاس جو الزامات تھے انکے ثبوت تو دور کی بات ان پر دوبارہ بات کرنا بھی پکڑوا سکتا ہے اور دوسری یہ کہ 30 سے 45 دن میں کاروائی مکمل کروانے والے معاہدے کو اتنا لمبا کردیا جائے کہ سپریم کورٹ ہر کام چھوڑ کر روزانہ 2 آر اوز بلائے اور 2018 اسی طرح آ جائے اور حسب روایت دھاندلی چورن بیچتے رہے اور 2018 کا الیکشن صرف دھاندلی کی بنیاد پر حصہ لے کیونکہ پختونخواہ کی حکومت کے حالات موجودہ اور سابقہ تمام حکومتوں سے کمزور ہے. اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ چیف جسٹس جاوید ہاشمی کی باقی تمام باتوں کی تصدیق ہونے کے بعد اس بات کی بھی تصدیق کرے گے اور اپنا کردار ادا کرتے ہوئے عوام کے جذبات سے مزید کگیلا جائے گا اور ملک میں اضطراب اور انتشار اور افراتفری کا کھیل جاری رہے گا.
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آمین )
الیکشن کمین شروع ہوئی ہر جماعت عوام میں چلی گئی. ن لیگ کے راہنما شہباز شریف نے اپنی شعلہ بیانی سے لوگوں کو قائل کیا اور ن لیگ نے الیکشن لڑنے کے طریقے کو انتہائی منظم انداز میں اپنایا تمام ٹکٹس باقاعدہ عوامی سروے کروا کی دی گئی اور انتہائی قابل اور جیتنے والے امیدوار چنے گئے کیونکہ پاکستان میں جہاں ٹکٹ کا ہونا ضروری ہے وہاں امیدوار کا مضبوط ہونا اس سے بھی ضروری ہے. پی ٹی آئی میڈیا پر اپنی مشہوری کی وجہ سے خوش فہمی کا شکار تھی اور ٹوئیٹر ٹرینڈز پی ٹی آئی کا کلین سویپ کروائے بیٹھے تھے.
11 مئی کا دن آیا الیکشن تاریخ آن پہنچی پولنگ شروع ہوئی میں نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا باہر نکلا مجھے میرے والد محترم کا فون آیا کہ این اے 110 میں پیپلز پارٹی کی امیدوار فردوس عاشق اعوان ن لیگ کے امیدوار خواجہ آصف کے خلاف پی ٹی آئی کے امیدوار کے حق میں بیٹھ گئی. 11 مئی کا دن خیر خیریت سے گزرا شام 6 بجے سے مختلف حلقوں سے رزلٹس آنا شروع ہو گئے اور رات 11 بجے تک تقریبا 70 فیصد سے زائد رزلٹس کلئیر ہو چکے تھے اور ن لیگ 1997 کے الیکشن کی طرح ایک بار پھر پاکستان کے وفاق کے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری. پنجاب سے کلین سویپ. بلوچستان میں مخلوط حکومت سندھ سے بھی بمائندگی اور پختونخواہ سے بھی ٹھیک ٹھاک نمائندگی ملی.
پیپلز پارٹی صرف سندھ تک محدود ہوگئی. پی ٹی آئی پختونخواہ میں طالبان بھائیوں کی بدولت حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی
سندھ سے انہیں 4 صوبائی اور 1 قومی حلقے کی سیٹ ملی اسی طرح پنجاب بھر میں 1 درجن سیٹیں اور بلوچستان سے بالکل خالی
اپنے آپ کو سب سے بڑی پارٹی کلیم کرنے والی پارٹی کی 55 حلقوں میں ضمانتیں ضبط ہوئیں. ضمانت ضبط تب ہوتی ہے جب امیدوار کاسٹ گئے ووٹس کا 10 فیصد سے کم لینے میں ناکام ہوتا ہے اور میرا اپنا شہر جس میں پی ٹی آئی کی قومی اور صوبائی دونوں حلقوں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں اس کے علاوہ 90 سیٹوں پر پی ٹی آئی دوسرے کی بجائے تیسرے نمبر آئی اور خواب دیکھا تھا کلین سویپ کا. میڈیا نے اتنا زیادہ اس کو اہمیت دے دی تھی کہ چئیرمین عمران خان دن رات سوتے جاگتے وزیراعظم بننے کا خواب دیکھتے تھے اور شیروانی سلوا کر بیٹھے ہوئے تھے. رزلٹس مکمل ہوئے ن لیگ 2 تہائی اکثریت سے وفاق میں آ گئی اور سب سے اعلی ظرفی بلوچستان میں جماعتوں کو قومی دھارے میں لانے کے لئے وزارت اعلی کی قربانی دی. ملک اپنی ڈگر پر چل پڑا پھر ایک دن اچانک شوکت خانم ہسپتال جو عوام کی زکوتہ اور صدقات پر چلتا ہے وہاں سے سب سے غریب لیڈر عمران خان کا ایک بار پھر نیا کام سونپا گیا اور وہ تھا اس حکومت کی کمزوری کا یا خاتمے کا عمل. میڈیا کو حسب معمول ہدایات دے کر ایک تماشہ کھڑا کر دیا گیا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اور پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چوری کیا گیا. اضطراب بڑھتا گیا میاں صاحب اس طرف دھیان دینے کی بجائے اپنے کام میں لگے رہے اور ملک کی سلامتی اور بقا کے لئے دن رات محنت کررہے تھے. ٹائم گزرتا گیا دھاندلی کا شوشہ اب بڑھنا شروع ہوا. چیف جسٹس افتخار حسین چودھری کے ریٹائر ہوتے ہی وہ گینگ پی ٹی آئی کا سرغنہ اور چیف جسٹس اور نواز لیگ کا سب سے بڑا دشمن مکمل حرکت میں آ گیا. الزامات کی بوچھاڑ شروع ہوئی 4 حلقوں کو بنیاد بنا کر ڈرامہ شروع کردیا گیا. چیف جسٹس اور خلیل رمدے پر الیکشن چوری پلان کے ماسٹر مائینڈ ہونے کا الزام لگا. نجم سیٹھی سابقہ نگران وزیراعلی پر 35 پنکچرز لگانے کا الزام
آئی بی کے بریگیڈیئر پر الزام . الیکشن کمیشن پر الزام اور سب سے آخر میں زرداری بھائی کی بات پکڑتے ہوئے آر اوز پر الزام لگا دیا گیا. یاہں ایک بات یاد رکھی جائے 2013 کے الیکشن میں آراوز جوڈیشری سے لینے کی درخواست محترم عمران خان نے ہی کی تھی. خان صاحب ٹی وی پر آ کر مسلسل نت نئے الزامات لگاتے رہے. اور انکی سچائی پر کہتے کہ ہمارے پاس سارے ثبوت موجود ہیں نجم سیٹھی کی 35 پنکچرز والی ٹیپ موجود ہے اور جس بات کا جواب مانگا جائے وہبیہہ کہ ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں اور سب سے بڑا الزام اردو بازار سے بیلٹ پیپرز چھپنے کا لگایا جس پر موصوف کہتے تھے کہ ہمارے پاس اس پرنٹنگ پریس کا بل موجود ہے جہاں سے ایکسٹرا بیلٹ پیپرز چھاپے گئے
12 مئی 2014 کا دن آیا حکومت کی جیت کو 1 سال مکمل ہوا اور قائد مہارانی محترم طاہر القادری صاحب ایک بار پھر میدان میں کود پڑے خطاب کیا کہ اٹھو اس انقلاب کی شکل میں آور لپیٹ دو اس نظام کو . حسب معمول حکومت نے اس سازش کو سمجھنے میں دیر لگائی انہی دنوں پاکستان حکومت اور افوج پاک نے دہشت گردوں اور پی ٹی آئی کی حکومتی الائنس طالبان کے خلاف ضرب عزب شروع کیا
خان صاحب اب خاموش ہو گئے لیکن ان کا اضطراب جاری تھا اور پھر شروع ہوا اصل کھیل. 17 جون کو حکومت پنجاب کی سب سے بڑی نااہلی ہوئی اور ماڈل ٹاوں میں معمولی سے مسئلے کا ایسا بھیانک رزلٹ نکلا کہ پورا ملک ہیجان میں آ گیا 17 لوگ ماڈل ٹاؤن میں مارے گئے 1 ماہ پہلے طاہر القادری جو نا جانے کس بنا پر حکومت کو اور نثام کو لپیٹنے کی باتیں کرتا تھا اچانک اسکے جسم میں بے پناہ طاقت آ گئی اسکی زبان کو الفاظ مل گئے اور وہ پاکستان کی اڑان کی تیاری کرنے لگا اور اگلے ہی دن خان صاحب نے بھکر جلسے میں دھاندلی کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کردیا. حکومت نے اس معاملے کو بھی زیادہ سیریس انداز میں نہیں لیا اور پنجاب پولیس بری طرح ناکام ہوئی معاملات کو سنبھالنے میں. رانا ثناءاللہ کا استعفی ہوگیا
اب طاہر القادری صاحب کا موقف تھا کہ ساری شریف فیملی اور تمام وزرا پر ایف آئی آر دی جائے. باتوں کو سلجھایا نا جاسکا اور حسب پلان عمران خان اور طاہر القادری نے 14 اگست کو لانگ مارچ اکٹھے کرنے کا اعلان کردیا. 14 اگست آ گئی ساری گیم پلان تھی . پی ٹی آئی کو مارشل لا کے سب سے پیارے بچے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور قادری کو ایم کیو ایم کے گورنر اور پنجاب کے متنازعہ اور پلان میں شامل گورنر چوہدری سرور کی بدولت اجازت مل گئی
دونوں جماعتیں نظام کو لپیٹنے اور ٹیکنو کریٹ گورنمنٹ سے کم کسی بات پر آمادہ ہی نہیں تھیں
13 اگست کو وزیر اعظم نے سپریم کورٹ کو خط لکھا کہ ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے اور انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کی جائیں. لیکن خان صاحب کو جو اشارے اور ہدایات مل رہی تھیں وہ اب نواز شریف کے استعفی سے کم کسی صورت بات ہی نہیں کررہا تھا. 10 لاکھ لوگوں کو لیجانے کا اعلان 1 لاکھ موٹر سائیکل جس میں سے صرف 99 ہزار 900 کم تھیں اسلام آباد روا دواں تھیں
قائد انتشار عمران خان اور قائد افراتفری طاہر القادری اسلام آباد پہنچ گئے
راستے میں ہونے والے واقعات کی بدولت گوجرانوالہ سے آگے جانے کی سپیڈ 120 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کر گئی
2 عدد وی آئی پی کنٹینرز اسلام آباد کی شاہراہ پر لگا دئے گئے
اور اب شروع ہوئے نئے الزامات اور نئے مطالبے
حکومت جو ماڈل ٹاؤن واقعہ سے ڈر چکی تھی کیونکہ اسے اندازہ ہوچکا تھا ان دونوں کے پیچھے کوئی قوت بر سر پیکار ہے لیکن اس ملک کی جمہوریت ابھی اتنی مضبوط نہیں کہ اسے بے نقاب کیا جائے
معاملات سلجھانے کے لئے بہت سے فریق میدان میں کودے
خان صاحب اور قادری کسی کی بات سننے کو تیار کہاں تھے لیکن اچانک ایک دن آرمی چیف کی آواز پڑی اور دونوں قائدین ملنگوں کی طرح بھاگتے گئے اور پہلے آبپارہ سے ہوتے گئے اب یہاں میرے الفاظ بھی کمزور ہیں مکمل نہیں لکھ سکتا
آرمی چیف نے انہیں نواز شریف کے استعفی کے سوا ہر بات کی یقین دھانی کروائی لیکن وہ انگلی جو خان صاحب مسلسل اٹھا رہے تھے وہ شاید ٹوٹی تو نہیں لیکن کمزور ضرور ہوچکی تھی
وہاں سے مایوسی ہوئی تو اب شروع ہوا الزامات کا نیا انقلاب
افتخار حسین چودھری. خلیل الرحمن رمدے، نجم سیٹھی کے 35 پنکچرز، اردو بازار کے بیلٹ پیپرز ، ایم کیو ایم کی ایم این اے کے قتل میں ملوث 2 وفاقی وزرا، 35 پنکچرز کی ٹیپ، آئی بی کا بریگیڈئر، اور روزانہ کی بنیاد پر اتنے الزامات کے پچھلے دن کی بات بھول جاتی. جب کسی طرح سے بات ناں بنی تو شروع ہوا دوسرا فیز جو تھا پارلیمنٹ پر حملہ کہ اس صورت میں لاشیں گرے گی اور مارشل لا کا نفاظ آسان ہو جائے گا
پارلیمنٹ پر حملہ ہوا. پولیس کو گولی ناں چلانے کی ہدایت تھی ہزاروں لوگوں نے آخر کار پارلیمنٹ پر قبضہ کرلیا لیکن کیا ہوا اگلے دن سازش بے نقاب . بدبو دار شراکت جو قائد انتشار اور قائد افراتفری کا تھی سب سامنے آ گئی. آئی ایس آئی. پاشا ، چوہدری سرور، اور سارا پلان ایک معذور بڈھے نے نکال پھینکا. آئی ایس پی آر سے روزانہ ہونے والی ٹویٹس اچانک غائب ہو گئیں. موجودہ چیف جسٹس کا نام بھی سامنے آیا
کسی طرف سے جاوید ہاشمی کے انکشافات کا انکار ناں ہوسکا.
اب حکومت کسی طرح سے ان کی بات سننے پر نہیں آ رہی تھی. انکی منتین سماجت اب ہر کوئی دیکھتا تھا.
عید قرباں آئی اور 14 اگست کی خوشیوں کی طرح اس عید پر بھی میڈیا کی مہربانیوں سے عوام نے اذیت ہی لی
دھرنا ناکام ہوگیا الزامات بڑھتے گئے
اب شروع ہوا تیسرا فیز جلسوں کا. میڈیا نے ہر شہر کو جگا دیا. ہر جلسے میں میں قائد انتشار ایک پروں والے رکشے پر جاتے اور ایک خاص ٹولہ جنکا تھڑکتا جسم لوگوں کو مائل کرنے میں کوئی ثانی نہیں رکھتا تھا جلسے سے 1 دن پہلے پہنچ جاتا تھا. ہر جگہ نت نئے الزامات اسی سپیڈ سے لگتے تھے لیکن جب ثبوتوں کی بات کی جاتی تو خاموشی
یہ مرحلہ بھی ناکام ہوا اور شروع ہوا انتشار برپا کرنے کا سب سے بڑا مرحلہ. قائد افراتفری کافی کرواچکے تھے. کرائے پر لائے گئے مزدور اور لوگ اب گھروں کو بھاگ رہے تھے اس لئے انہوں نے غنیمت جانی دل کی تکلیف لگوائی اور کنیڈا کے سفر پر روانہ ہو گئے کزن کزن سے بچھڑ گیا اور شراکت ٹوٹ گئی
میڈیا ابھی تک ناکام تھا کسی بھی بڑی تبدیلی کے لئے ان کا کیا دھرا ناکام ہو رہا تھا
کراچی لاہور اور فیص آباد میں انتشار کی کال اور زبردستی دکانیں بند کروانے میں جانیں بھی گئیں اور لوگ زخمی بھی ہوئے
16 دسمبر کا ایک دلخراش واقعہ پیش آیا. معصوم بچے معصوم کلیاں کھلنے سے پہلے مرجھا گئیں. 18 دسمبر کو ایک مضبوط ترین ڈنڈے نے دھرنا ختم کروادیا اور قائد انتشار کے چاروں پلان فیل ہوگئے
لیکن کیا کہنے اس میڈیا کے جس کو ایک لڑکی نیہا انصاری بے نقاب کر گئی. میڈیا کے گونگے بہرے دانشور اس آرٹیکل کا جواب مانگنے پر بلاک کر دیتے تھے جن میں سے مشہور زمانہ سما نیوز کے اینکر اور پی ٹی وی کے ایم ڈی کے امیدوار ندیم ملک سر فہرست تھے.
معاملات چلتے رہے الزامات اسی سپیڈ سے لگتے رہے
آخر کار حکومت اور پی ٹی آئی کا معاہدہ ہو گیا اور صدارتی آرڈیننس سے جوڈیشل کمیشن تشکیل میں آ گیا
پی ٹی آئی نے جو الزامات لگائے تھے اب ان ثبوتوں کو پیش کرنے کا وقت آ چکا تھا
کاروائی شروع ہوگئی
1 لاکھ چالیس ہزار صفحات پر مشتمل ثبوت جوڈیشل کمیشن میں جمع کروا دئیے گئے. یہ کیا ہوا عوام سے درخواستیں کرنا شروع کر دی اگر کسی کے پاس دھاندلی کے ثبوت ہیں تو ہمیں جمع کروا کر ثواب حاصل کرے
بیلٹ پیپرز اردو بازار سے چھپے. ناکامی ہوئی
چیف جسٹس. بلانے سے بھی ڈر گئے
رمدے. نام بھی بھول گیا.
سیٹھی آیا. 35 پنکچرز غائب
آراوز آئے. ان سے ہم سوالات نہیں پوچھے گے
ہر بات میں ناکامی کے بعد ایک نیا شوشہ مل گیا اور وہ تھا فارم 15 کا
فارم 15 میں بیلٹ پیپرز کا سارا حساب شامل ہوتا ہے
لیکن جب تحقیق ہوئی تو 44 فیصد فارم 15 پی ٹی آئی کے حلقوں سے غائب نکلے. اب پی ٹی آئی کے پاس کچھ باقی نہیں بچا. فارم 15 کی مسنگ کو انہوں دھاندلی قرار دے دیا. اور سب سے آخر میں اب درخواست کر دی کہ ہم نے جو کہنا تھا کہہ دیا اب کمیشن خود انکوائری کرے. اسکے 2 مطلب ہیں یاں تو پی ٹی آئی خفت مٹانے کے لئے اب اس بات پر آگئی ہے ہمارے پاس جو الزامات تھے انکے ثبوت تو دور کی بات ان پر دوبارہ بات کرنا بھی پکڑوا سکتا ہے اور دوسری یہ کہ 30 سے 45 دن میں کاروائی مکمل کروانے والے معاہدے کو اتنا لمبا کردیا جائے کہ سپریم کورٹ ہر کام چھوڑ کر روزانہ 2 آر اوز بلائے اور 2018 اسی طرح آ جائے اور حسب روایت دھاندلی چورن بیچتے رہے اور 2018 کا الیکشن صرف دھاندلی کی بنیاد پر حصہ لے کیونکہ پختونخواہ کی حکومت کے حالات موجودہ اور سابقہ تمام حکومتوں سے کمزور ہے. اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ چیف جسٹس جاوید ہاشمی کی باقی تمام باتوں کی تصدیق ہونے کے بعد اس بات کی بھی تصدیق کرے گے اور اپنا کردار ادا کرتے ہوئے عوام کے جذبات سے مزید کگیلا جائے گا اور ملک میں اضطراب اور انتشار اور افراتفری کا کھیل جاری رہے گا.
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آمین )