جمعہ، 8 نومبر، 2019

"یہ گورکھ دھندہ کب ختم ہو گا"

"یہ گورکھ دھندہ کب ختم ہو گا"
میں کاروبار کے ساتھ پچھلے 15 سال سے منسلک ہوں۔ کاروباری مراحل میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ لیکن ایک بات میں واضح کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں سب سے مشکل کاروبار کریانہ سٹور کا ہے۔ سب سے زیادہ محنت، ڈیوٹی، سرمایہ کاری، ٹیکسسز، مسائل اور بلیک میلنگ اس کاروبار میں ہے اور شرح منافع سب سے کم ہوتا ہے۔ ٹرن اوور زیادہ ہونے کے باعث لوگ یہ سمجھتے ہے اس کا تو کاروبار ہی بہت زیادہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کاروبار میں شرح منافع واضح اور بالکل معمولی سا ہوتا ہے اور الحمدللہ برکت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ میرے پندرہ سال کاروباری پیریڈ میں یہ چوتھی حکومت ہے لیکن ایک بات افسوس سے کہوں گا کسی بھی حکومت نے کریانہ سٹور والوں کے مسائل حل کرنے کی طرف ایک فیصد بھی توجہ نہیں دی۔ سب سے زیادہ اداروں کا ٹیکس کریانہ مرچنٹ والوں کو دینا پڑتا ہے، ضلعی انتظامیہ کا سارا بوجھ صرف کریانہ مرچنٹ والوں پر پڑتا ہے، خدانخواستہ ملک میں کسی قسم کا کوئی مشکل وقت سیلاب یا زلزلہ آئے تو سب سے زیادہ امداد یہی کریانہ سٹور والے کرتے ہیں۔ لیکن کریانہ سٹور والوں کو انسان نہیں سمجھا جاتا۔ ایک معمولی سے معمولی کلرک، ڈرائیور یا سرکاری ملازم ہمیں بلیک میل کرتا ہے۔ سرعام بلیک میلنگ پر افسران بالا بھی انکی سرزنش نہیں کرتے بلکہ ان کو صوبائی حکومت کی جانب سے ٹارگٹ ملے ہوتے ہیں کہ اتنا جرمانہ کسی بھی حال میں جمع کرنا ہے۔
جو ٹیکسوں کی شرح کریانہ سٹور پر ہے ان میں سے چند یہ ہیں
1. پنجاب فوڈ اتھارٹی
سالانہ 12000 تک
2. میونسپل کمیٹی
سالانہ 2 ہزار تک
3. مارکیٹ کمیٹی
سالانہ 2 ہزار روپے اور ماہانہ 4 سو روپے سے 2 ہزار ماہانہ
4. لیبر ڈیپارٹمنٹ
سالانہ 1 ہزار روپے تک
5. ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن
2 ہزار روپے سالانہ تک
اس کے بعد انکم ٹیکس الگ ہے
یہ ٹیکسوں کا بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ شاید لوگ اتنا انکم ٹیکس بھی نہیں دیتے ہونگے۔ یہ ابھی اداروں کی جانب سے نافذ کئے گئے ٹیکسسز ہیں۔ بجلی کے بل اور اس میں بےتحاشہ ٹیکس، دوکانوں کے کرائے، ملازمین کی تنخواہ یہ سب ادا کرنے کے بعد اگر کچھ بچے گا تو اس کے گھر کا نظام چل سکے گا جس میں اس کے گھر کے اخراجات، بچوں کی فیس، کپڑے، کھانا پینا، غمی خوشی ہر چیز شامل ہے

لیکن سب سے زیادہ ظلم صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ یہ حالات سے واقف ہونے کے باوجود مہنگائی روکنے میں ناکام ہونے کی صورت پر سارا بوجھ چھوٹے پرچون فروش دوکاندار پر ڈال دیتے ہیں اور اسے اذیت کا شکار کر دیا جاتا ہے۔ پرچون فروش دوکاندار کو ضروری اجناس کے جو پرچون فروخت کے ریٹس دیئے جاتے ہیں وہ ہول سیل مارکیٹ جہاں سے پورے پنجاب کو سپلائی کی جاتی ہے ان کے ہول سیل ریٹس سے بھی کم ہوتے ہیں اور پھر دوکاندار کو زبردستی اس پر فروخت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور انکار کی صورت میں اس کے خلاف نت نئے طریقے سے کاروائی کی جاتی ہے اور ہزاروں روپے کے جرمانہ اور ایف آئی آرز کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایک سادہ مثال ہے کہ چینی کا ایکس فیکٹری ریٹ اگر 7 ہزار روپے ہو گا تو اس مین کم از کم 1 سو روپیہ فی بوری ہول سیل ڈیلر کا کرایہ پڑتا ہے۔ اسکی ان لوڈنگ لیبر اخراجات اور منافع کی شرح ڈال کر اگر صرف 50 روپے اضافہ کیا جائے تو 7150 روپے بن جاتا ہے۔ جب پرچون فروش وہ چینی کا بیگ لیکر جاتا ہے تو 50 کلو کے بیگ سے ایک ایک کلو چینی فروخت کرنے پر کم از کم 150 روپے کے آدھا کلو شاپر لگ جاتے ہیں اور چینی بھی پچاس کلو پوری نہیں ہوتی ہے۔ کم از کم تین روپے پرچون فروش کا خرچہ ہے لیکن دوکاندار کو منافع دینے کی بجائے فیکٹری ریٹ سے بھی کم ریٹ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح دالوں کے ہول سیل مارکیٹ سے کم از کم بیس سے پچاس روپے کلو۔ ریٹس دیئے جاتے ہیں۔
 صوبائی سیکرٹری سے لیکر وزیراعلی تک کسی میں اتنی جرات نہیں کہ وہ کسی گھی مل، شوگر مل یا ہول سیل مارکیٹ سے سپلائی دلوا سکیں۔ عوام کا بیوقوف بنایا جا رہا ہے اور سارا الزام ان دوکاندار پر لگا دیا جاتا ہے کہ یہ ذخیرہ اندوز اور گراں فروش ہیں۔ لیکن ان کا سوال صرف ایک ہے
"یہ گورکھ دھندہ کب ختم ہو گا"

پیر، 13 مئی، 2019

زندگی کا محور

سوچ کر لکھنا تو شاید اب ختم ہو چکا ہے۔ اب لکھ کر بھی سوچنا گوارہ نہیں کیا جاتا۔ کیا لکھا اور کس لئے لکھا اور کیوں لکھا اس پر کچھ نہیں لکھا کہ ایسا کیوں لکھا۔ آج بھی جس سے ہم استفادہ حاصل کرتے ہیں وہ صرف قرآن پاک اور احادیث مبارکہ کے علاوہ صرف ان بزرگوں کی تصانیف ہیں جنہوں نے یہ سوچ کر لکھا کہ ان کا لکھا کسی کے کام آئے گا۔ اور اسی لکھے نے ان کے لکھے کو بےمثال کر دیا
کچھ حاصل کرنا 
یہ حاصل کرنا 
یہ میری زندگی کا مقصد ہے
میرا یہ خواب ہے
میری یہ خواہش ہے
یہ سب وہ باتیں ہیں جن کی دوڑ میں ہم زندگی شروع ہوتے ہی شروع ہو جاتے ہیں اور جب کچھ حاصل کر لیتے ہیں تو بے انتہا خوشی کے عالم یہ بھول جاتے ہیں کہ اب جب یہ حاصل کر لیا ہے تو کیوں حاصل کیا ہے اور حاصل لا حاصل کیا ہے 
جب حاصل نہیں کر پاتے تو یہ سوچنا گوارہ بھی نہیں کرتے کہ ہمیں یہ نہیں ملا تو پھر کیا کھویا ہم نے اور اگر کچھ کھویا نہیں تو پھر اصل میں حاصل کیا ہوا تھا۔ 
زندگی کچھ حاصل کرنے اور کچھ حاصل نہ کر سکنے پر گھوم رہی ہے 
مل گیا تو ہماری عقل مندی اور کوشش کو کریڈٹ مل گیا اور کچھ نہ مل سکا تو قسمت کو مورد الزام ٹھہرا کر اصل حاصل کو حاصل کرنا بھول جاتے ہیں
زندگی کا محور کیا وہی ہے جس کی تلاش کبھی نہ ختم ہونے والے چکر ہیں جس میں کسی کا حاصل ہونا یا کھو جانا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ بس اسی پر اکتفا کرنا ہے کہ قسمت ہی ایسی تھی 
لیکن کیا زندگی کے محور میں اصل حاصل کرنے کی جستجو ہی ختم ہو گئی ہو