پیر، 13 مئی، 2019

زندگی کا محور

سوچ کر لکھنا تو شاید اب ختم ہو چکا ہے۔ اب لکھ کر بھی سوچنا گوارہ نہیں کیا جاتا۔ کیا لکھا اور کس لئے لکھا اور کیوں لکھا اس پر کچھ نہیں لکھا کہ ایسا کیوں لکھا۔ آج بھی جس سے ہم استفادہ حاصل کرتے ہیں وہ صرف قرآن پاک اور احادیث مبارکہ کے علاوہ صرف ان بزرگوں کی تصانیف ہیں جنہوں نے یہ سوچ کر لکھا کہ ان کا لکھا کسی کے کام آئے گا۔ اور اسی لکھے نے ان کے لکھے کو بےمثال کر دیا
کچھ حاصل کرنا 
یہ حاصل کرنا 
یہ میری زندگی کا مقصد ہے
میرا یہ خواب ہے
میری یہ خواہش ہے
یہ سب وہ باتیں ہیں جن کی دوڑ میں ہم زندگی شروع ہوتے ہی شروع ہو جاتے ہیں اور جب کچھ حاصل کر لیتے ہیں تو بے انتہا خوشی کے عالم یہ بھول جاتے ہیں کہ اب جب یہ حاصل کر لیا ہے تو کیوں حاصل کیا ہے اور حاصل لا حاصل کیا ہے 
جب حاصل نہیں کر پاتے تو یہ سوچنا گوارہ بھی نہیں کرتے کہ ہمیں یہ نہیں ملا تو پھر کیا کھویا ہم نے اور اگر کچھ کھویا نہیں تو پھر اصل میں حاصل کیا ہوا تھا۔ 
زندگی کچھ حاصل کرنے اور کچھ حاصل نہ کر سکنے پر گھوم رہی ہے 
مل گیا تو ہماری عقل مندی اور کوشش کو کریڈٹ مل گیا اور کچھ نہ مل سکا تو قسمت کو مورد الزام ٹھہرا کر اصل حاصل کو حاصل کرنا بھول جاتے ہیں
زندگی کا محور کیا وہی ہے جس کی تلاش کبھی نہ ختم ہونے والے چکر ہیں جس میں کسی کا حاصل ہونا یا کھو جانا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ بس اسی پر اکتفا کرنا ہے کہ قسمت ہی ایسی تھی 
لیکن کیا زندگی کے محور میں اصل حاصل کرنے کی جستجو ہی ختم ہو گئی ہو

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں