منگل، 13 دسمبر، 2016

بابا گورونانک کا جنم دن

بابا گورونانک دیو جی آج سے 548 سال پہلے ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے جو اب سکھ مذہب کے بانی مانے جاتے ہیں۔ بابا گورونانک بچپن سے ہی اسلامی تعلیمات اور تصوف کے حامی گردانے جاتے تھے۔ اور انکے لکھے ہوئے کلام میں اسلام کے شعار ہی زیادہ تر اجاگر کئے گئے ہیں۔ بابا گورونانک جنم دن پر ننکانہ صاحب میں ہر سال پوری دنیا سےہزاروں یاتری آتے ہیں۔ انڈیا اور پوری دنیا سے آئے ہوئے ہندو و سکھ یاتری اپنے اپنے ممالک کی ثقافت اور پاکستان کی ثقافت کا ایک انوکھا رنگ پیش کرتے ہیں۔ اندرون سندھ اور پختوانخواہ کے ایک کثیر تعداد یاتری بھی اس موقع پر موجود ہوتے ہیں۔ ساری دنیا میں ننکانہ صاحب اپنی ایک پہچان رکھتا ہے اور پاکستان کا نام بلند کرتا ہے۔ بازاروں میں رش بڑھتا ہے۔ یاتری خاص طور پر پاکستانی کپڑے کی خریداری کرتے ہیں۔ گوردوارہ کے اندر خصوصی اسٹالز لگائے جاتے ہیں جس میں پاکستانی ثقافتی ورثہ خصوصی طور پر اجاگر کیا جاتا ہے اور یاتریوں کے کھانے پینے کے لئے کثیر مقدار میں کھانے کے اقدامات کئے جاتے ہیں
یاتریوں کے وی آئی پی رہائش کا بندوبست گوردوارہ میں ہی کیا جاتا ہے 

   جنم دن کے سلسلہ میں  دیسی مہینہ کاتک کی بارہ تیرہ اور چودہ کو انکی مذہبی رسومات جوش و خروش سے منائیں جاتیں ہیں۔ چودہ والے دن کیرتھن جلوس نکالا جاتا ہے جس میں نوجوانوں کی ٹولیاں بھنگڑے ڈالتے ہوئے اور مٹھائیاں بانٹتے جاتے ہیں۔ جلوس کے اختتام پر سب یاتری گوردوارہ واپسی کرتے ہیں تالاب میں اشنان کی رسم ادا کی جاتی اور بارہ بجے کے بعد آخری رسم بھوگ ڈالا جاتا ہے اور اگلی صبح واپسی کا سفر اختیار ہوجاتا ہے۔ پنجاب کا ثقافتی ورثہ اس میلے کے دوران نمایاں ہوتا ہے۔ 
انڈیا سے آئے یاتری خصوصی توجہ کے حامل ہوتے ہیں۔ جو مختلف ٹرینوں سے براہ راست ننکانہ صاحب پہنچتے ہیں۔ حکومت پاکستان اس ورثے کو نہایت کامیابی سے چلا رہی ہے۔    
 سیکورٹی کے سخت اقدامات مشکلات بھی پیدا کرتے ہیں عوام کے لئے۔ ایک وقت تھا جب جنم دن کا میلہ آتا تھا تو سچ میں میلے کا سماں ہوتا تھا۔ دور دور سے لوگ اپنے رشتہ داروں کے گھر اس میلے پر تفریح کے لئے آتے تھے۔ بچوں کے لئے دیدہ زیب اسٹالز، جھولے، موت کا کنواں اور سرکس لگائیں جاتیں۔ ہر طرف خوشیاں نظر آتیں تھیں۔ کاروباری حضرات کے کاروبار دوگنا ہوجاتے لیکن پھر دہشت گردی کے خوف نے اس پر بھی سایہ ڈال دیا اور یہ سب خوشیاں ماند پڑنا شروع ہو گئیں۔ اب سیکورٹی کے فول پروف اقدامات کی وجہ سے یاتریوں کے آنے والے دن ، جلوس والے دن اور واپسی والے دن مقامی مین روڈ کو مکمل سیل کر دیا جاتا ہے۔ کاروباری سرگرمیاں بالکل ختم ہو جاتیں ہیں۔ لوگوں کی نقل و حرکت میں بہت تکالیف پیش آتیں ہیں۔ پاکستان کے قومی تشخص کو قائم رکھنے کے لئے یہ مشکل اقدامات اٹھانے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں کیونکہ دشمن عناصر کسی لمحہ کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہتے جس سے ہماری ملکی سلامتی اور تشخص کو ٹھیس ناں پہنچائیں۔
میلہ کے آغاز اور اختتام میں ہمیشہ یاتری خوشیاں سمیٹتے ہیں اور ہماری مہمان نوازی کی تعریفیں کئے بنا نہیں رہ سکتے۔ منظم منصوبہ سازی سے اس جنم دن کی تقریبات کو مزید اچھے طریقے سے ساری   دنیا کے سامنے اپنے قومی تشخص کی بلندی اور سیاحت کی صورت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔           

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں