منگل، 13 دسمبر، 2016

ننکانہ صاحب کی سیاسی ڈائری


پنجاب کے چھتیس اضلاع میں ننکانہ صاحب ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ یہ عالمی سطح پر بھی سکھ برادری کی وجہ کافی بڑا مقام رکھتا ہے۔ آجکل پنجاب کے تمام اضلاع کی طرح ننکانہ صاحب بھی بلدیاتی سیاست کے سحر میں مبتلا ہے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن پنجاب میں اپنی پوزیشن کو مضبوط رکھنے اور اگلے آنے والے عام انتخابات کے لئے اپنی راہیں ہموار کرنے میں لگی ہوئی لیکن ننکانہ صاحب میں اسے مدمقابل جماعتیں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی بجائے اپنی ہی جماعت کے سیاسی دھڑوں سے مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے جو ایک خطرے کی طرح منڈلا رہی کہ حکمران جماعت ضلع ننکانہ اور میونسپل کمیٹی ننکانہ صاحب کی چئیرمین کی سیٹ سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا۔ ننکانہ صاحب تین تحصیلوں پر مشتمل ہے۔ جس میں ننکانہ صاحب سب سے بڑی تحصیل ہے جو دو ایم این ایز ڈاکٹر شذرہ اور بلال ورک اور تین ایم پی ایز ملک ذوالقرنین ڈوگر، کاشف پڈھیار اور رانا جمیل حسن پر مشتمل ہے جبکہ تحصیل شاہکوٹ اور تحصیل سانگلہ ہل ایک ایم این اے وفاقی وزیر کشمیر اُمور چوہدری برجیس طاہر دو ایم پی ایز پارلیمانی سیکرٹری رانا ارشد اور طارق باجوہ پر مشتمل حلقے رکھتے ہیں۔ ضلع کی سیاست میں اس وقت اصل مقابلہ برجیس طاہر اور ڈاکٹر شذرہ گروپ میں ہے لیکن ان دونوں دھڑوں کا فائدہ کوئی اور لے جائے گا۔ ننکانہ صاحب کے چونسٹھ یونین کونسلز چئیرمین میں سے جٹ برادری سترہ ، کھرل برادری چودہ اور ارائیں برادری گیارہ سیٹوں کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ جو ننکانہ ضلع پر راج کے لئے پوری طرح جوڑ توڑ میں لگے ہوئے۔ کیونکہ چونسٹھ سیٹوں میں چودہ سیٹیں مسلم لیگ ن ، نو سیٹیں تحریک انصاف ، ایک سیٹ پیپلز پارٹی اور چالیس سیٹیں آزاد امیدوار لے اڑے۔ جو ہر ایم این اے اور ایم پی اے کے بھائی کزنوں کو ہرا کر آگے آئے صرف ایک ایم پی اے ملک ذوالقرنین ڈوگر کا بیٹا ملک عامر ڈوگر جیتا جو ضلعی چئیرمین کا امیدوار بھی تھا لیکن ٹکٹ ناں ملنے کی وجہ سے مایوس بھی اور یہی وجہ لوکل ایم این اے ڈاکٹر شذرہ اور ملک ذوالقرنین ڈوگر میں اختلاف کا باعث بنی۔ 
ضلع کے راج کے لئے برجیس طاہر گروپ جس میں رانا ارشد اور رانا جمیل حسن شامل تھے انہوں نے تین نام قیادت کو پیش کئے یہ تینوں کھرل برادری سے تبے جسکی وجہ سے دوسرا گروپ جو رائے منصب علی کی بیٹی ڈاکٹر شذرہ منصب، طارق باجوہ ، ذوالقرنین ڈوگر، بلال ورک اور کاشف پڈھیار پر مشتمل ہیں وہ ذرا مشکل میں آیا کیونکہ اگر یہ گروپ ان ناموں کی مخالفت کرے گا تو انکے گروپ میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ لیکن یہ گروپ چئیرمین کی ٹکٹ لینے میں کامیاب ہوگیا اور طارق باجوہ کے حلقہ سانگلہ ہل سے ملک طاہر کو چئیرمین کا اُمیدوار نامزد کر دیا گیا۔ ساتھ میں وائس چئیرمین بھی تحصیل شاہکوٹ کو دے دی گئی جس پر تحصیل ننکانہ میں غم وغصہ دیکھنے میں آیا۔ برجیس طاہر دو دن بعد اس حلقہ کو اوپن کروانے گیا لیکن وائس چئیرمین کی ٹکٹ ان سے لیکر تحصیل ننکانہ ڈاکٹر شذرہ گروپ کو دے دی گئی جنہوں نے اس سیٹ پر رائے منشا کھرل کو نامزد کر دیا۔ چئیرمین کے دوسرے سب سے مضبوط امیدوار گل چاچکے سے جیتنے والے طاہر منظور گل ہے جن کے بھائی شاہد منظور سابقہ ایم این اے ہے اور برجیس طاہر کے کافی سمجھے جاتے تھے لیکن ٹکٹ کے لئے انکا نام نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کھرل برادری کے ساتھ سے ملکر الیکشن لڑنے کا اعلان اور رائے سجاد کھرل جو کہ سابقہ ایم پی اے رائے اسلم کھرل بیگے والا کے بھائی ہے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروا دئیے۔کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے آخری دن ایک اور گروپ سامنے آگیا جو حمایت یافتہ ہے ایم این اے ڈاکٹر شذرہ کے کزن رائے توصیف کھرل جو رائے منصب کی وفات کے بعد ایم این اے کے امیدوار تھے اور چوہدری شفیع جو ضلع کی ٹیکنوکریٹ سیٹ جو سارے حکومتی پینل کے مقابلے صرف دو ووٹوں سے ہارے اور تحصیل ننکانہ کی سیاست میں ایک دبنگ اینٹری دی ہے۔ اس ساری سیاست میں تحریک انصاف کے مرکزی راہنما بریگیڈئیر ریٹائر اعجاز شاہ جو پرویز مشرف کے دست راست اور سابقہ ڈی جی آئی بی اور ہوم سیکرٹری پنجاب کی سیٹ پر تعنیات رہ چکے ہے اور ننکانہ صاحب کو ضلع بنوانے میں اہم کردار رکھتے ہے۔ وہ حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ انکے چچا ننکانہ صاحب کے پہلے ضلع ناظم رہ چکے ہے اور اپنے نو چئیرمین کیساتھ چار مخصوص نشستیں بھی رکھتے ہیں۔ ملک ذوالقرنین ڈوگر اپنے بیٹے کو ٹکٹ ناں ملنے کی وجہ سے ڈاکٹر شذرہ سے اختلافات رکھتے ہے اسی طرح رانا جمیل حسن سے بھی ڈاکٹر شذرہ کے بہت زیادہ اختلافات ہیں جبکہ چوہدری برجیس طاہر اور طارق باجوہ بھی بہت زیادہ اختلافات رکھتے ہیں۔ ضلع کی اس کھینچا تانی میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر کے لئے مقابلہ بہت کانٹے دار بن چکا ہے۔ چوہدری برجیس طاہر اور رانا ارشد اس وقت مکمل کوشش میں لگے ہوئے کہ حلقہ کو اوپن کر دیا جائے۔ اب ضلع کی چئیرمینی کس کی گود میں گرے گی چند دنوں میں واضح ہو جائے گا لیکن اس سارے کھیل میں بہت بڑے برج اُلٹے گے بھی اور کئی نئے نام سامنے بھی آئیں گے۔ 
میونسپل کمیٹی ننکانہ میں مسلم لیگ ن چودہ سیٹیں جیتنے کے باوجود خطرات میں ڈوبی ہوئی ہے کیونکہ انکے ایک جیتے کونسلر کی غداری کی وجہ سے دو مخصوص سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے۔ تحریک انصاف کے پانچ پیپلز پارٹی کے ایک اور آزاد گروپ اتحاد کے آٹھ کونسلرز پر مشتمل پینل کے مشترکہ اُمیدوار چوہدری نعیم احمد میونسپل چئیرمین کے مضبوط ترین امیدوار ہے کیونکہ مسلم ن کی جانب سے تین امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دئیے ہیں لیکن ابھی تک پارٹی ٹکٹ باہمی اختلافات کی وجہ سے فائنل نہیں کی جاسکی اور میونسپل کمیٹی ننکانہ صاحب کو اوپن کر دیا گیا تھا۔ آخر دو دنوں کی انتھک محنت کے بعد ایم پی اے ملک ذوالقرنین ڈوگر مسلم لیگ ن کے تینوں کونسلرز کو ایک جگہ بیٹھانے میں کامیاب ہو گئے اور اُمید ہے کہ میونسپل کمیٹی ننکانہ صاحب میں مسلم لیگ ن کا ایک اُمیدوار فائنل ہو جائے جس کی صورت میں چئیرمین شپ کے لئے سخت مقابلہ متوقع ہے ورنہ اپوزیشن کا اتحاد آسانی سے حکمران جماعت سے جیت جائے گا

بابا گورونانک کا جنم دن

بابا گورونانک دیو جی آج سے 548 سال پہلے ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے جو اب سکھ مذہب کے بانی مانے جاتے ہیں۔ بابا گورونانک بچپن سے ہی اسلامی تعلیمات اور تصوف کے حامی گردانے جاتے تھے۔ اور انکے لکھے ہوئے کلام میں اسلام کے شعار ہی زیادہ تر اجاگر کئے گئے ہیں۔ بابا گورونانک جنم دن پر ننکانہ صاحب میں ہر سال پوری دنیا سےہزاروں یاتری آتے ہیں۔ انڈیا اور پوری دنیا سے آئے ہوئے ہندو و سکھ یاتری اپنے اپنے ممالک کی ثقافت اور پاکستان کی ثقافت کا ایک انوکھا رنگ پیش کرتے ہیں۔ اندرون سندھ اور پختوانخواہ کے ایک کثیر تعداد یاتری بھی اس موقع پر موجود ہوتے ہیں۔ ساری دنیا میں ننکانہ صاحب اپنی ایک پہچان رکھتا ہے اور پاکستان کا نام بلند کرتا ہے۔ بازاروں میں رش بڑھتا ہے۔ یاتری خاص طور پر پاکستانی کپڑے کی خریداری کرتے ہیں۔ گوردوارہ کے اندر خصوصی اسٹالز لگائے جاتے ہیں جس میں پاکستانی ثقافتی ورثہ خصوصی طور پر اجاگر کیا جاتا ہے اور یاتریوں کے کھانے پینے کے لئے کثیر مقدار میں کھانے کے اقدامات کئے جاتے ہیں
یاتریوں کے وی آئی پی رہائش کا بندوبست گوردوارہ میں ہی کیا جاتا ہے 

   جنم دن کے سلسلہ میں  دیسی مہینہ کاتک کی بارہ تیرہ اور چودہ کو انکی مذہبی رسومات جوش و خروش سے منائیں جاتیں ہیں۔ چودہ والے دن کیرتھن جلوس نکالا جاتا ہے جس میں نوجوانوں کی ٹولیاں بھنگڑے ڈالتے ہوئے اور مٹھائیاں بانٹتے جاتے ہیں۔ جلوس کے اختتام پر سب یاتری گوردوارہ واپسی کرتے ہیں تالاب میں اشنان کی رسم ادا کی جاتی اور بارہ بجے کے بعد آخری رسم بھوگ ڈالا جاتا ہے اور اگلی صبح واپسی کا سفر اختیار ہوجاتا ہے۔ پنجاب کا ثقافتی ورثہ اس میلے کے دوران نمایاں ہوتا ہے۔ 
انڈیا سے آئے یاتری خصوصی توجہ کے حامل ہوتے ہیں۔ جو مختلف ٹرینوں سے براہ راست ننکانہ صاحب پہنچتے ہیں۔ حکومت پاکستان اس ورثے کو نہایت کامیابی سے چلا رہی ہے۔    
 سیکورٹی کے سخت اقدامات مشکلات بھی پیدا کرتے ہیں عوام کے لئے۔ ایک وقت تھا جب جنم دن کا میلہ آتا تھا تو سچ میں میلے کا سماں ہوتا تھا۔ دور دور سے لوگ اپنے رشتہ داروں کے گھر اس میلے پر تفریح کے لئے آتے تھے۔ بچوں کے لئے دیدہ زیب اسٹالز، جھولے، موت کا کنواں اور سرکس لگائیں جاتیں۔ ہر طرف خوشیاں نظر آتیں تھیں۔ کاروباری حضرات کے کاروبار دوگنا ہوجاتے لیکن پھر دہشت گردی کے خوف نے اس پر بھی سایہ ڈال دیا اور یہ سب خوشیاں ماند پڑنا شروع ہو گئیں۔ اب سیکورٹی کے فول پروف اقدامات کی وجہ سے یاتریوں کے آنے والے دن ، جلوس والے دن اور واپسی والے دن مقامی مین روڈ کو مکمل سیل کر دیا جاتا ہے۔ کاروباری سرگرمیاں بالکل ختم ہو جاتیں ہیں۔ لوگوں کی نقل و حرکت میں بہت تکالیف پیش آتیں ہیں۔ پاکستان کے قومی تشخص کو قائم رکھنے کے لئے یہ مشکل اقدامات اٹھانے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں کیونکہ دشمن عناصر کسی لمحہ کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہتے جس سے ہماری ملکی سلامتی اور تشخص کو ٹھیس ناں پہنچائیں۔
میلہ کے آغاز اور اختتام میں ہمیشہ یاتری خوشیاں سمیٹتے ہیں اور ہماری مہمان نوازی کی تعریفیں کئے بنا نہیں رہ سکتے۔ منظم منصوبہ سازی سے اس جنم دن کی تقریبات کو مزید اچھے طریقے سے ساری   دنیا کے سامنے اپنے قومی تشخص کی بلندی اور سیاحت کی صورت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔