عرصہ ہو گیا الفاظ کانوں میں گونجتے رہتے ہیں، دماغ گھبراتا ہے اور دل سوچتا ہے. لیکن زبان ساتھ نہیں دیتی اور ہاتھ کانپتے ہیں. کہ لکھنا مہارت ہے یاں اسکو پڑھ کر مذاق اڑانے میں مزہ زیادہ آتا ہے. کون کسی کو کیا دیتا ہے اسکا تو پتہ نہیں لیکن کون کس سے کیا لیتا ہے اسکی بازگشت سرعام ہے.
ایک عام رائے قائم ہے کہ جیسی عوام ویسے حکمران. اس بات کو حدیث مبارکہ سے منسلک کیا جاتا ہے لیکن ایسی کوئی حدیث مبارکہ کسی واضح طور پر سامنے نہیں آئی اور اسکی بڑی ضعیف شہادت ہے
پھر سمجھ آتی ہے کہ ہم تو وہ قوم ہے جو سنی سنائی باتوں کو ایسے آگے پھیلاتے ہیں جیسے وہ ثواب دارین کے لئے ضروری ہے حالانکہ یہ حدیث مبارکہ ضرور ہے کہ وہ شخص بالکل جھوٹا ہے جو سنی سنائی بات کو آگے پھیلائے.
عوام اور حکمران کے متعلق قرآن پاک میں بھی تذکرہ ہے جسے اس طرح بیان کیا جاتا ہے
1: ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم (بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے) سورہ الرعد 11
2:و کذالک نولی بعض الظالمین بعضا( ہم ظالموں میں سے بعض کو بعض پر حکمران بنا دیتے ہیں) سورہ الانعام 129
3: کما تکونوا یولی علیکم (جیسے تم خود ہوگے ویسے تم پر حکمران بنا دیے جائیں گے) حدیث... لیکن انتہائی ضعیف
یہ وہ راہنمائی ہے جو اللہ تعالی خود انسان کے لئے فرما رہا ہے لیکن افسوس ہر ایک نے اسکو اپنے الفاظ میں تشریح کر لیا.
ایک بزرگ سے پوچھا بابا جی یہ حکمران کون ہوتا ہے انہوں نے جواب دیا بیٹا جو قوم کا راہنما ہوتا ہے وہی حکمران ہوتا ہے اس دن سے اس لمحہ سے ان الفاظ نے جکڑا ہوا ہے کہ اگر حکمران راہنما ہوتا ہے تو یہ سیاست دان کون ہوتا ہے. کیونکہ یہی کہا جاتا ہے کہ حکمرانی کرنے والے عوام کے ووٹ لیکر آتے ہیں لیکن ووٹ لینے والے تو سیاست دان ہوتے ہیں اور سیاست دان تو راہنمائی نہیں کر رہے. پھر تھوڑا ماضی کے اوراق پلٹے تو سمجھ آیا کہ ساری دنیا اسی مخمصے میں ہے کہ ہم سیاست دان ہیں ہمیں سیاست کرنے دیں اور آپ اپنا کام کریں. مطلب حکمرانی کرنا صرف سیاست دان کا کام ہے تو عام روز مرہ زندگی میں جب کوئی کسی سے فراڈ کرتا ہے تو کہتے ہیں یار اس کے ساتھ سیاست ہو گئی. فراڈ کرنے والے کو کہا جاتا یار یہ تو بڑا سیاسی بندہ ہے. تو کیا سیاست کرنے کا مطلب فراڈ ہوا. اگر نہیں تو پھر قوم کی راہنمائی کون کرے گا کہ سیاست فراڈ نہیں ہے.
تاریخ کے اوراق ہی بتاتے ہیں کہ مازوئے تنگ نے جب چائنا کے حالات بدلے تو وہ قوم افیم کے نشے میں مست تھی تو کیا مازوئے سیاست دان بن کر سامنے آیا یاں راہنما بن کر. اسی طرح ملائشیا کی عوام بہت متقی پرہیز گار اور صالح تو نہیں تھی جو مہاتیر محمد نے راہنمائی کا بیڑہ اٹھا لیا اور قوم کو بلند مقام پر لے آیا. مسلکی معاملے اور پستی میں ایران کم تو نہیں تھا لیکن امام خمینی کی راہنمائی نے قوم کا معیار کہاں سے کہاں بڑھا دیا.
بدقسمتی کہاں سے شروع ہوتی ہے اس کو اخذ کرنے کے لئے ہر ایک کا الگ طریقہ کار ہے. عوام اس کو پسند کرتی اور ووٹ دیتی ہے جو اس کے ہر جائز ناجائز کام کو من و عن کروا دے. ہر سیاسی جماعت کے فالوورز کئی شکلوں میں سامنے آتے ہیں
1. جو اپنے کام اور نوکری یا ٹھیکوں کی بنیاد پر ساتھ چلتے
2. جو علاقائی سیاست دان کے ذاتی ورکرز ہوتے اور اس کیساتھ ہر جماعت میں شامل ہوتے
3. سیاسی جماعت کے نظریاتی ورکرز
یہی وہ بدقسمت طبقہ ہے جو سب سے کم ہے اور ساری زندگی راہنمائی کی تلاش میں منتظر رہتا ہے. ہر وقت ہر لمحہ راہنمائی کی آس پر اسکی زندگی گزرتی ہے اور آخر میں پتہ چلتا ہے کہ جناب حکمران صاحب تو فرماتے ہیں کہ یہ سیاسی بیان تھا. وہ سیاسی بیان کیا ہوتا ہے. اسکی تلاش مجھے تو ہے ہی شاید اور دوسروں کو بھی ہو گی.
اور جہاں تک رہی عوام کے اعمال کی بات تو ماشاءاللہ اسکا تو حال ہی بہت بلند ہے. ایک محکمے کے چپڑاسی سے لیکر ایوان اقتدار کے ایوانوں تک بس اپنے نام کی چمک اور جیب کی دمک بڑھانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے
اصل ضرورت اس راہنما کی ہے جو سیاست کی گالی کو ختم کر کے اپنی عوام اور رعایا کی وہ راہنمائی کرے جسکی مثال تاقیامت رہے. اللہ تعالی بزرگ و برتر کی ایک لاکھ چوبیس ہزار لگ بھگ کے انبیاء کرام اور رسول اس دنیا میں بھجوائے. انہوں نے اپنے اعمال اور کردار سے راہنمائی کا طریقہ سمجھایا اس طرح راہنما اس سنت پر بھی پیرا عمل ہوتے ہیں جو انبیاء کرام نے اس دنیا کو اللہ کے راستے پر لانے سرانجام دیئے.
کیا امریکہ برطانیہ اسرائیل اور دوسرے غیرمسلم ممالک جو آج دنیا میں بلند ترین مقام پر ہے انکی عوام کے کردار بہت بلند ہیں کیا وہ بہت اعلی کام کرتے ہیں جو انکو ایسے حکمران ملتے ہیں جو انکی فلاح و بہبود کے لئے سب کچھ کرتے ہیں. شاید وہ راہنمائی کا مطلب سمجھ چکے ہیں.
اگر عوام یہ ارادہ کر لے کہ اسے روٹی کپڑا مکان نہیں راہنما چاہئیے اسے سیاستدان نہیں لیڈر چاہیئے اور اسے ملازمت اور ٹھیکے نہیں بلکہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لئیے راہنمائی چاہئیے. اور وہ لیڈر راہنما اپنی راہنمائی سے قوم کو بلند مقام پر لیجائے. آج بھی وہ نام بلند ہیں جو حکمران بعد میں تھے اور راہنمائی انکا فریضہ تھا
ایک عام رائے قائم ہے کہ جیسی عوام ویسے حکمران. اس بات کو حدیث مبارکہ سے منسلک کیا جاتا ہے لیکن ایسی کوئی حدیث مبارکہ کسی واضح طور پر سامنے نہیں آئی اور اسکی بڑی ضعیف شہادت ہے
پھر سمجھ آتی ہے کہ ہم تو وہ قوم ہے جو سنی سنائی باتوں کو ایسے آگے پھیلاتے ہیں جیسے وہ ثواب دارین کے لئے ضروری ہے حالانکہ یہ حدیث مبارکہ ضرور ہے کہ وہ شخص بالکل جھوٹا ہے جو سنی سنائی بات کو آگے پھیلائے.
عوام اور حکمران کے متعلق قرآن پاک میں بھی تذکرہ ہے جسے اس طرح بیان کیا جاتا ہے
1: ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم (بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے) سورہ الرعد 11
2:و کذالک نولی بعض الظالمین بعضا( ہم ظالموں میں سے بعض کو بعض پر حکمران بنا دیتے ہیں) سورہ الانعام 129
3: کما تکونوا یولی علیکم (جیسے تم خود ہوگے ویسے تم پر حکمران بنا دیے جائیں گے) حدیث... لیکن انتہائی ضعیف
یہ وہ راہنمائی ہے جو اللہ تعالی خود انسان کے لئے فرما رہا ہے لیکن افسوس ہر ایک نے اسکو اپنے الفاظ میں تشریح کر لیا.
ایک بزرگ سے پوچھا بابا جی یہ حکمران کون ہوتا ہے انہوں نے جواب دیا بیٹا جو قوم کا راہنما ہوتا ہے وہی حکمران ہوتا ہے اس دن سے اس لمحہ سے ان الفاظ نے جکڑا ہوا ہے کہ اگر حکمران راہنما ہوتا ہے تو یہ سیاست دان کون ہوتا ہے. کیونکہ یہی کہا جاتا ہے کہ حکمرانی کرنے والے عوام کے ووٹ لیکر آتے ہیں لیکن ووٹ لینے والے تو سیاست دان ہوتے ہیں اور سیاست دان تو راہنمائی نہیں کر رہے. پھر تھوڑا ماضی کے اوراق پلٹے تو سمجھ آیا کہ ساری دنیا اسی مخمصے میں ہے کہ ہم سیاست دان ہیں ہمیں سیاست کرنے دیں اور آپ اپنا کام کریں. مطلب حکمرانی کرنا صرف سیاست دان کا کام ہے تو عام روز مرہ زندگی میں جب کوئی کسی سے فراڈ کرتا ہے تو کہتے ہیں یار اس کے ساتھ سیاست ہو گئی. فراڈ کرنے والے کو کہا جاتا یار یہ تو بڑا سیاسی بندہ ہے. تو کیا سیاست کرنے کا مطلب فراڈ ہوا. اگر نہیں تو پھر قوم کی راہنمائی کون کرے گا کہ سیاست فراڈ نہیں ہے.
تاریخ کے اوراق ہی بتاتے ہیں کہ مازوئے تنگ نے جب چائنا کے حالات بدلے تو وہ قوم افیم کے نشے میں مست تھی تو کیا مازوئے سیاست دان بن کر سامنے آیا یاں راہنما بن کر. اسی طرح ملائشیا کی عوام بہت متقی پرہیز گار اور صالح تو نہیں تھی جو مہاتیر محمد نے راہنمائی کا بیڑہ اٹھا لیا اور قوم کو بلند مقام پر لے آیا. مسلکی معاملے اور پستی میں ایران کم تو نہیں تھا لیکن امام خمینی کی راہنمائی نے قوم کا معیار کہاں سے کہاں بڑھا دیا.
بدقسمتی کہاں سے شروع ہوتی ہے اس کو اخذ کرنے کے لئے ہر ایک کا الگ طریقہ کار ہے. عوام اس کو پسند کرتی اور ووٹ دیتی ہے جو اس کے ہر جائز ناجائز کام کو من و عن کروا دے. ہر سیاسی جماعت کے فالوورز کئی شکلوں میں سامنے آتے ہیں
1. جو اپنے کام اور نوکری یا ٹھیکوں کی بنیاد پر ساتھ چلتے
2. جو علاقائی سیاست دان کے ذاتی ورکرز ہوتے اور اس کیساتھ ہر جماعت میں شامل ہوتے
3. سیاسی جماعت کے نظریاتی ورکرز
یہی وہ بدقسمت طبقہ ہے جو سب سے کم ہے اور ساری زندگی راہنمائی کی تلاش میں منتظر رہتا ہے. ہر وقت ہر لمحہ راہنمائی کی آس پر اسکی زندگی گزرتی ہے اور آخر میں پتہ چلتا ہے کہ جناب حکمران صاحب تو فرماتے ہیں کہ یہ سیاسی بیان تھا. وہ سیاسی بیان کیا ہوتا ہے. اسکی تلاش مجھے تو ہے ہی شاید اور دوسروں کو بھی ہو گی.
اور جہاں تک رہی عوام کے اعمال کی بات تو ماشاءاللہ اسکا تو حال ہی بہت بلند ہے. ایک محکمے کے چپڑاسی سے لیکر ایوان اقتدار کے ایوانوں تک بس اپنے نام کی چمک اور جیب کی دمک بڑھانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے
اصل ضرورت اس راہنما کی ہے جو سیاست کی گالی کو ختم کر کے اپنی عوام اور رعایا کی وہ راہنمائی کرے جسکی مثال تاقیامت رہے. اللہ تعالی بزرگ و برتر کی ایک لاکھ چوبیس ہزار لگ بھگ کے انبیاء کرام اور رسول اس دنیا میں بھجوائے. انہوں نے اپنے اعمال اور کردار سے راہنمائی کا طریقہ سمجھایا اس طرح راہنما اس سنت پر بھی پیرا عمل ہوتے ہیں جو انبیاء کرام نے اس دنیا کو اللہ کے راستے پر لانے سرانجام دیئے.
کیا امریکہ برطانیہ اسرائیل اور دوسرے غیرمسلم ممالک جو آج دنیا میں بلند ترین مقام پر ہے انکی عوام کے کردار بہت بلند ہیں کیا وہ بہت اعلی کام کرتے ہیں جو انکو ایسے حکمران ملتے ہیں جو انکی فلاح و بہبود کے لئے سب کچھ کرتے ہیں. شاید وہ راہنمائی کا مطلب سمجھ چکے ہیں.
اگر عوام یہ ارادہ کر لے کہ اسے روٹی کپڑا مکان نہیں راہنما چاہئیے اسے سیاستدان نہیں لیڈر چاہیئے اور اسے ملازمت اور ٹھیکے نہیں بلکہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لئیے راہنمائی چاہئیے. اور وہ لیڈر راہنما اپنی راہنمائی سے قوم کو بلند مقام پر لیجائے. آج بھی وہ نام بلند ہیں جو حکمران بعد میں تھے اور راہنمائی انکا فریضہ تھا