کافی دنوں بعد دوبارہ ضمیر نے شور کیا آجکل ملک میں تاجروں اور حکومت کے درمیان ایک نیا شوشہ کھلا ہوا ہے جسے حکومت ودہولڈنگ ٹیکس اور تاجر قاتلانہ ٹیکس کا نام دے رہے ہیں.
کوشش کی اس پر تھوڑی رائے دے سکوں تاکہ دوستوں اور عوام کو اس معاملے کو سمجھنے میں آسانی ہو
بینکنگ میں ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاظ سب سے پہلے مشرف دور میں شروع ہوا جس میں بینک سے ایک خاص مقررہ رقم سے زائد کیش نکلوانے پر ٹیکس نافذ کردیا گیا اس کا مقصد کاروباری حضرات کی تمام لین دین کا ایک مناسب ریکارڈ بنانا تھا لیکن لوگوں نے اتنی مالیت کے سینکڑوں چیکس سائن کرنا شروع کردئیے گے پھر اسکو ایک فکس مالیت میں تبدیل کردیا کہ کیش 24 گھنٹوں میں اتنی مالیت سے زائد نکالنے پر ٹیکس نافذ ہو جائے گا اس سے کرپشن کا ایک نیا باب شروع ہوا جو کاروباری حضرات زمیندار سے اجناس لیتے تھے انہوں نے ڈبل کمائی شروع کردی. مختلف دوکانداروں اور تاجروں سے جو روزانہ کی بنیاد پر بینک میں رقم جمع کرواتے تھے ان کو اپنے اکاونٹ کا چیک دے دینا اور ان سے رقم لے کر وہ ٹیکس زمیندار سے بھی لے لینا اس طرح انہوں نے یہ کمائی کا نیا طریقہ بنا لیا وقت گزرتا گیا لوگ اس عادت پر پکے ہوگئے روزانہ ایسے عادت سے مجبور لوگ بینکوں میں کھڑے رہتے اور کیش جمع کروانے والوں سے کیش لینے کا انتظار کرتے رہتے اس میں بینک کے ملازمین بھی شامل ہو چکے تھے.
خیر جو سب سے فکریہ لمحہ پاکستان میں ہے وہ ٹیکس ریٹرنز فائل کرنا ہے جسے لوگ گناہ سمجھتے ہیں اور اس سے بھاگتے ہیں
موجودہ حکومت نے جو نیا ودہولڈنگ ٹیکس نافذ کیا ہے اس کا مقصد لوگوں کو مائل کرنا ہے کہ وہ اپنی سالانہ آمدن اخراجات کا گوشوارہ ایف بی آر کو جمع کروائے اگر آپکی آمدن ٹیکس سرکل میں نہیں آتی تو ایف بی آر آپ کو کھا نہیں جائے گا آپ زیرہ ٹیکس بھی جمع کروا سکتے ہیں.
اس نئے ٹیکس لگانے کا مقصد صرف لوگوں کو ٹیکس نیے میں لانا ہے اگر آپ ٹیکس ادا نہیں بھی کر سکتے آپکی آمدن اس شرح میں نہیں آتی تو آپ پھر بھی اپنے سالانہ گوشوارے ایف بی آر کو جمع کروائے بلکہ اگر آپ یوٹیلیٹی بلز کی مد میں جو ٹیکسز دے چکے ہیں وہ ریفنڈ بھی کروا سکتے ہیں
اس نئے ٹیکس سے صرف بہت سارے ایسے اکاونٹس بند ہو جائے جو جعلی شناخت پر کھلے ہوئے ہیں یاں پھر انکی اصلیت سامنے آئے گی لیکن ایک بات کا ڈر سب سے زیادہ ہے کہ اگر تاجر ایک بات پر اکٹھے ہو گئے تو بینکوں سے رقوم نکال لی جائے گی اور بینکوں اور حکومت کو دیوالیہ ہونے سے کوئی نہیں روک پائے گا ہنڈی کا کام شروع ہو جائے گا لین دین کیش میں ہوگا جس سے چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور حکومت جس کا ہدف ٹیکس بڑھانا وہ بالکل فارغ ہو جائے گا
تاجران بھی معافی دینے کو تیار نہیں
ایک چھوٹی سی مثال دوں گا امید ہے دوست بھائی ناراض نہیں ہونگے
ایک آڑھتی سالانہ تقریبا 2 ارب روپے سے زائد جنس کا لین دین کرتا ہے
جب وہ زمیندار کو کاشت کے سلسلے میں ہاتھ بٹاتا ہے تو ادویات اور کھاد کی قیمتوں میں اس سے ادھار کی مد میں ڈبل کمائی کرتا پ ہے پھر جب فصل اسکی آڑھت پر آ جاتی تو ادھار اور نقد خرید کا الگ الگ ریٹ ملے گا زمیندار کو پھر آڑھت کمیشن کاٹی جائے گی پھر مزدوری پھر تول میں کمی بیشی اور مزدور بھی معافی نہیں دے گا آڑھت کے تھڑے پر بچنے والی 2 سے 3 من کو وہ کسی کھاتے میں ہی نہیں ڈالے گا
سب سے آخر میں جب زمیندار کو رقم ادائیگی کا ٹائم آئے گا تو اس سے بینک کا ودہولڈنگ ٹیکس کاٹ لیا جائے گا اگر اس شرح کو صرف 2 فیصد بھی سمجھ لیا جائے تو آڑھتی نے 4 کروڑ کمایا اور وہ بھی زمینداروں کے تعاون سے لیکن اس کا ٹیکس شاید وہ 10 ہزار بھی ناں دے
اب سامنے ہیں ملک میں کام کرنے والی نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیاں جو ہر چیز پر سیلز ٹیکس لے رہی ہیں
ایک ڈیلر جو سیلز ٹیکس رجسٹرڈ نہیں ہے اس سے کمپنی 2 فیصد زائد سیلز ٹیکس وصول کرتی ہے لیکن یہ بوجھ عوام پر ہی پڑتا ہے
کیا بات ہے کہ پاکستان کی عوام جو سانس پر بھی سیلز ٹیکس دیتی لیکن حکومت تک نہیں پہنچتا تو اسکی حقیقت سنے
اگر ایک کمپنی کا روزانہ کا سیلز ٹیکس 50 لاکھ بنتا تو ایف بی آر کو وہ ایماندار نمائیندہ جو مانیٹرنگ کے لئے فیکٹری میں بیٹھا ہوتا وہ اپنی مخصوص فیس لے کر 50 لاکھ والے سیلز ٹیکس کو صرف 10 لاکھ تک کم کروانے میں اپنا کردار ادا کرتا مطلب عوام نے 50 لاکھ دے دیا لیکن حکومت کو ملا 10 لاکھ. اگر فیکٹری اس نمائندے کو 1 لاکھ بھی دے روزانہ تو 39 لاکھ تک کمپنی چور ہے عوام اور حکومت کی
لیکن اس طرف شاید کسی کا دھیان نہیں جاتا
اب جو مرکزی مسئلہ جس پر ملک میں ہڑتالوں اور جلسوں کا بازار گرم ہونے والا ہے اس میں ریاست اور حکومت کو بڑا کردار ادا کرنا ہو گا
کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس ٹیکس کو نافذ کرنے کے پیچھے جو عمل کارآمد ہے اس کی پہلے پریکٹس کی جاتی لوگوں کو بتایا جاتا کہ ٹیکس گوشوارے جمع کروانے اور ناں کروانے والوں میں کیا فرق ہے
کیا فوائد ہیں فائلرز کے اور کیا نقصانات ہیں اپنا گوشوارہ جمع ناں کروانے کے. اس کو باقاعدہ ایک کمپین کی صورت میں چلایا جاتا
الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر کمپین زور و شور سے شروع کی جاتی جیسے سموں کو ویریفائی کرنے کا کام کیا گیا. ایک خاص مقررہ مدت تاجران کے اصل نمائندگان کو ساتھ بٹھا کر طے کی جاتی لوگوں سے اس سلسلے میں رائے لی جاتی اور اگر اس خاص مدت کے بعد بھی لوگ گوشوارے جمع ناں کرواتے تو ایک بھاری ٹیکس نافذ کیا جاتا. اگر یہ اقدامات کئے جاتے تو حکومتی اقدامات ہی سراہے جاتے. دوسرا المیہ ایف بی آر کے نمائندگان کا ہے جو ٹیکسز چوری کے راستے خود دکھاتے اور عوام اور تاجروں کو اس حد تک ڈراتے کہ وہ شاید کسی بھی اتنا ناں ڈرتے ہو. ایف بی آر کو کرپشن اور چوروں سے پاک عوام اور تاجر دوست محکمہ بنایا جائے. ریاست اپنی ترجیحات لوگوں کی فلاح و بہبود پر رکھے ناں کہ جو ایم این ایز یا ایم ایز اے حکومتی حلقوں میں مضبوط ہیں انکے علاوے ترقی یافتہ اور اپوزیشن کے علاقے ترقی پذیر رہ جائے. عوام کو اعلی تعلیم اور صحت کے مراکز فراہم کئے جائے
بیوروکریسی جو صرف اور صرف عوام کے ٹیکسز کی تنخواہیں لیتی لیکن عوام کو اپنا غلام سمجھتی اس بے لگام گھوڑے کو قابو کرنا بہت ضروری ہے
اس کے علاوہ اور بہت سی ایسی تاجروں کی چوریاں اور ریاست کی کمزوریاں ہیں جن کو اگر میں شاید لکھنے لگوں تو الفاظ ختم ہوجائے لیکن یہ ختم ناں ہوں
یہ الفاظ صرف اس ودہولڈنگ کے لئے ہیں جو اس کو قاتلانہ سمجھ رہے ہیں اگر آپ سچے ہیں اور چوری نہیں کرتے تو آپ اپنا گوشوارہ جنع کروائے آپکو ایک پیسہ بھی ودہولڈنگ ٹیکس نہیں پڑے گا اور اگر پڑ چکا ہے اور آپ ٹیکس نیٹ میں نہیں ہے تو آج ہی اپنا گوشوارہ جمع کروائے اور حکومت سے اپنے ٹیکس کی مد میں ادا کی ہوئی رقم کو واپس لے سکتے ہیں. اور حکومت خدارا اس ایف بی آر کے ناگ کو عوام کے لئے رحمت کا وسیلہ بنائے ناں کے آگ کا گولا
اگر میرے الفاظ سے کسی تاجر بھائی کو تکلیف ہوئی ہو تو معذرت خواہ ہوں
اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین
کوشش کی اس پر تھوڑی رائے دے سکوں تاکہ دوستوں اور عوام کو اس معاملے کو سمجھنے میں آسانی ہو
بینکنگ میں ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاظ سب سے پہلے مشرف دور میں شروع ہوا جس میں بینک سے ایک خاص مقررہ رقم سے زائد کیش نکلوانے پر ٹیکس نافذ کردیا گیا اس کا مقصد کاروباری حضرات کی تمام لین دین کا ایک مناسب ریکارڈ بنانا تھا لیکن لوگوں نے اتنی مالیت کے سینکڑوں چیکس سائن کرنا شروع کردئیے گے پھر اسکو ایک فکس مالیت میں تبدیل کردیا کہ کیش 24 گھنٹوں میں اتنی مالیت سے زائد نکالنے پر ٹیکس نافذ ہو جائے گا اس سے کرپشن کا ایک نیا باب شروع ہوا جو کاروباری حضرات زمیندار سے اجناس لیتے تھے انہوں نے ڈبل کمائی شروع کردی. مختلف دوکانداروں اور تاجروں سے جو روزانہ کی بنیاد پر بینک میں رقم جمع کرواتے تھے ان کو اپنے اکاونٹ کا چیک دے دینا اور ان سے رقم لے کر وہ ٹیکس زمیندار سے بھی لے لینا اس طرح انہوں نے یہ کمائی کا نیا طریقہ بنا لیا وقت گزرتا گیا لوگ اس عادت پر پکے ہوگئے روزانہ ایسے عادت سے مجبور لوگ بینکوں میں کھڑے رہتے اور کیش جمع کروانے والوں سے کیش لینے کا انتظار کرتے رہتے اس میں بینک کے ملازمین بھی شامل ہو چکے تھے.
خیر جو سب سے فکریہ لمحہ پاکستان میں ہے وہ ٹیکس ریٹرنز فائل کرنا ہے جسے لوگ گناہ سمجھتے ہیں اور اس سے بھاگتے ہیں
موجودہ حکومت نے جو نیا ودہولڈنگ ٹیکس نافذ کیا ہے اس کا مقصد لوگوں کو مائل کرنا ہے کہ وہ اپنی سالانہ آمدن اخراجات کا گوشوارہ ایف بی آر کو جمع کروائے اگر آپکی آمدن ٹیکس سرکل میں نہیں آتی تو ایف بی آر آپ کو کھا نہیں جائے گا آپ زیرہ ٹیکس بھی جمع کروا سکتے ہیں.
اس نئے ٹیکس لگانے کا مقصد صرف لوگوں کو ٹیکس نیے میں لانا ہے اگر آپ ٹیکس ادا نہیں بھی کر سکتے آپکی آمدن اس شرح میں نہیں آتی تو آپ پھر بھی اپنے سالانہ گوشوارے ایف بی آر کو جمع کروائے بلکہ اگر آپ یوٹیلیٹی بلز کی مد میں جو ٹیکسز دے چکے ہیں وہ ریفنڈ بھی کروا سکتے ہیں
اس نئے ٹیکس سے صرف بہت سارے ایسے اکاونٹس بند ہو جائے جو جعلی شناخت پر کھلے ہوئے ہیں یاں پھر انکی اصلیت سامنے آئے گی لیکن ایک بات کا ڈر سب سے زیادہ ہے کہ اگر تاجر ایک بات پر اکٹھے ہو گئے تو بینکوں سے رقوم نکال لی جائے گی اور بینکوں اور حکومت کو دیوالیہ ہونے سے کوئی نہیں روک پائے گا ہنڈی کا کام شروع ہو جائے گا لین دین کیش میں ہوگا جس سے چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور حکومت جس کا ہدف ٹیکس بڑھانا وہ بالکل فارغ ہو جائے گا
تاجران بھی معافی دینے کو تیار نہیں
ایک چھوٹی سی مثال دوں گا امید ہے دوست بھائی ناراض نہیں ہونگے
ایک آڑھتی سالانہ تقریبا 2 ارب روپے سے زائد جنس کا لین دین کرتا ہے
جب وہ زمیندار کو کاشت کے سلسلے میں ہاتھ بٹاتا ہے تو ادویات اور کھاد کی قیمتوں میں اس سے ادھار کی مد میں ڈبل کمائی کرتا پ ہے پھر جب فصل اسکی آڑھت پر آ جاتی تو ادھار اور نقد خرید کا الگ الگ ریٹ ملے گا زمیندار کو پھر آڑھت کمیشن کاٹی جائے گی پھر مزدوری پھر تول میں کمی بیشی اور مزدور بھی معافی نہیں دے گا آڑھت کے تھڑے پر بچنے والی 2 سے 3 من کو وہ کسی کھاتے میں ہی نہیں ڈالے گا
سب سے آخر میں جب زمیندار کو رقم ادائیگی کا ٹائم آئے گا تو اس سے بینک کا ودہولڈنگ ٹیکس کاٹ لیا جائے گا اگر اس شرح کو صرف 2 فیصد بھی سمجھ لیا جائے تو آڑھتی نے 4 کروڑ کمایا اور وہ بھی زمینداروں کے تعاون سے لیکن اس کا ٹیکس شاید وہ 10 ہزار بھی ناں دے
اب سامنے ہیں ملک میں کام کرنے والی نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیاں جو ہر چیز پر سیلز ٹیکس لے رہی ہیں
ایک ڈیلر جو سیلز ٹیکس رجسٹرڈ نہیں ہے اس سے کمپنی 2 فیصد زائد سیلز ٹیکس وصول کرتی ہے لیکن یہ بوجھ عوام پر ہی پڑتا ہے
کیا بات ہے کہ پاکستان کی عوام جو سانس پر بھی سیلز ٹیکس دیتی لیکن حکومت تک نہیں پہنچتا تو اسکی حقیقت سنے
اگر ایک کمپنی کا روزانہ کا سیلز ٹیکس 50 لاکھ بنتا تو ایف بی آر کو وہ ایماندار نمائیندہ جو مانیٹرنگ کے لئے فیکٹری میں بیٹھا ہوتا وہ اپنی مخصوص فیس لے کر 50 لاکھ والے سیلز ٹیکس کو صرف 10 لاکھ تک کم کروانے میں اپنا کردار ادا کرتا مطلب عوام نے 50 لاکھ دے دیا لیکن حکومت کو ملا 10 لاکھ. اگر فیکٹری اس نمائندے کو 1 لاکھ بھی دے روزانہ تو 39 لاکھ تک کمپنی چور ہے عوام اور حکومت کی
لیکن اس طرف شاید کسی کا دھیان نہیں جاتا
اب جو مرکزی مسئلہ جس پر ملک میں ہڑتالوں اور جلسوں کا بازار گرم ہونے والا ہے اس میں ریاست اور حکومت کو بڑا کردار ادا کرنا ہو گا
کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس ٹیکس کو نافذ کرنے کے پیچھے جو عمل کارآمد ہے اس کی پہلے پریکٹس کی جاتی لوگوں کو بتایا جاتا کہ ٹیکس گوشوارے جمع کروانے اور ناں کروانے والوں میں کیا فرق ہے
کیا فوائد ہیں فائلرز کے اور کیا نقصانات ہیں اپنا گوشوارہ جمع ناں کروانے کے. اس کو باقاعدہ ایک کمپین کی صورت میں چلایا جاتا
الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر کمپین زور و شور سے شروع کی جاتی جیسے سموں کو ویریفائی کرنے کا کام کیا گیا. ایک خاص مقررہ مدت تاجران کے اصل نمائندگان کو ساتھ بٹھا کر طے کی جاتی لوگوں سے اس سلسلے میں رائے لی جاتی اور اگر اس خاص مدت کے بعد بھی لوگ گوشوارے جمع ناں کرواتے تو ایک بھاری ٹیکس نافذ کیا جاتا. اگر یہ اقدامات کئے جاتے تو حکومتی اقدامات ہی سراہے جاتے. دوسرا المیہ ایف بی آر کے نمائندگان کا ہے جو ٹیکسز چوری کے راستے خود دکھاتے اور عوام اور تاجروں کو اس حد تک ڈراتے کہ وہ شاید کسی بھی اتنا ناں ڈرتے ہو. ایف بی آر کو کرپشن اور چوروں سے پاک عوام اور تاجر دوست محکمہ بنایا جائے. ریاست اپنی ترجیحات لوگوں کی فلاح و بہبود پر رکھے ناں کہ جو ایم این ایز یا ایم ایز اے حکومتی حلقوں میں مضبوط ہیں انکے علاوے ترقی یافتہ اور اپوزیشن کے علاقے ترقی پذیر رہ جائے. عوام کو اعلی تعلیم اور صحت کے مراکز فراہم کئے جائے
بیوروکریسی جو صرف اور صرف عوام کے ٹیکسز کی تنخواہیں لیتی لیکن عوام کو اپنا غلام سمجھتی اس بے لگام گھوڑے کو قابو کرنا بہت ضروری ہے
اس کے علاوہ اور بہت سی ایسی تاجروں کی چوریاں اور ریاست کی کمزوریاں ہیں جن کو اگر میں شاید لکھنے لگوں تو الفاظ ختم ہوجائے لیکن یہ ختم ناں ہوں
یہ الفاظ صرف اس ودہولڈنگ کے لئے ہیں جو اس کو قاتلانہ سمجھ رہے ہیں اگر آپ سچے ہیں اور چوری نہیں کرتے تو آپ اپنا گوشوارہ جنع کروائے آپکو ایک پیسہ بھی ودہولڈنگ ٹیکس نہیں پڑے گا اور اگر پڑ چکا ہے اور آپ ٹیکس نیٹ میں نہیں ہے تو آج ہی اپنا گوشوارہ جمع کروائے اور حکومت سے اپنے ٹیکس کی مد میں ادا کی ہوئی رقم کو واپس لے سکتے ہیں. اور حکومت خدارا اس ایف بی آر کے ناگ کو عوام کے لئے رحمت کا وسیلہ بنائے ناں کے آگ کا گولا
اگر میرے الفاظ سے کسی تاجر بھائی کو تکلیف ہوئی ہو تو معذرت خواہ ہوں
اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین