بدھ، 29 جولائی، 2015

ودہولڈنگ ٹیکس کے جن کی حقیقت اور مسائل

کافی دنوں بعد دوبارہ ضمیر نے شور کیا آجکل ملک میں تاجروں اور حکومت کے درمیان ایک نیا شوشہ کھلا ہوا ہے جسے حکومت ودہولڈنگ ٹیکس اور تاجر قاتلانہ ٹیکس کا نام دے رہے ہیں.
کوشش کی اس پر تھوڑی رائے دے سکوں تاکہ دوستوں اور عوام کو اس معاملے کو سمجھنے میں آسانی ہو
بینکنگ میں ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاظ سب سے پہلے مشرف دور میں شروع ہوا جس میں بینک سے ایک خاص مقررہ رقم سے زائد کیش نکلوانے پر ٹیکس نافذ کردیا گیا اس کا مقصد کاروباری حضرات کی تمام لین دین کا ایک مناسب ریکارڈ بنانا تھا لیکن لوگوں نے اتنی مالیت کے سینکڑوں چیکس سائن کرنا شروع کردئیے گے پھر اسکو ایک فکس مالیت میں تبدیل کردیا کہ کیش 24 گھنٹوں میں اتنی مالیت سے زائد نکالنے پر ٹیکس نافذ ہو جائے گا اس سے کرپشن کا ایک نیا باب شروع ہوا جو کاروباری حضرات زمیندار سے اجناس لیتے تھے انہوں نے ڈبل کمائی شروع کردی. مختلف دوکانداروں اور تاجروں سے جو روزانہ کی بنیاد پر بینک میں رقم جمع کرواتے تھے ان کو اپنے اکاونٹ کا چیک دے دینا اور ان سے رقم لے کر وہ ٹیکس زمیندار سے بھی لے لینا اس طرح انہوں نے یہ کمائی کا نیا طریقہ بنا لیا وقت گزرتا گیا لوگ اس عادت پر پکے ہوگئے روزانہ ایسے عادت سے مجبور لوگ بینکوں میں کھڑے رہتے اور کیش جمع کروانے والوں سے کیش لینے کا انتظار کرتے رہتے اس میں بینک کے ملازمین بھی شامل ہو چکے تھے.
خیر جو سب سے فکریہ لمحہ پاکستان میں ہے وہ ٹیکس ریٹرنز فائل کرنا ہے جسے لوگ گناہ سمجھتے ہیں اور اس سے بھاگتے ہیں
موجودہ حکومت نے جو نیا ودہولڈنگ ٹیکس نافذ کیا ہے اس کا مقصد لوگوں کو مائل کرنا ہے کہ وہ اپنی سالانہ آمدن اخراجات کا گوشوارہ ایف بی آر کو جمع کروائے اگر آپکی آمدن ٹیکس سرکل میں نہیں آتی تو ایف بی آر آپ کو کھا نہیں جائے گا آپ زیرہ ٹیکس بھی جمع کروا سکتے ہیں.
اس نئے ٹیکس لگانے کا مقصد صرف لوگوں کو ٹیکس نیے میں لانا ہے اگر آپ ٹیکس ادا نہیں بھی کر سکتے آپکی آمدن اس شرح میں نہیں آتی تو آپ پھر بھی اپنے سالانہ گوشوارے ایف بی آر کو جمع کروائے بلکہ اگر آپ یوٹیلیٹی بلز کی مد میں جو ٹیکسز دے چکے ہیں وہ ریفنڈ بھی کروا سکتے ہیں
اس نئے ٹیکس سے صرف بہت سارے ایسے اکاونٹس بند ہو جائے جو جعلی شناخت پر کھلے ہوئے ہیں یاں پھر انکی اصلیت سامنے آئے گی لیکن ایک بات کا ڈر سب سے زیادہ ہے کہ اگر تاجر ایک بات پر اکٹھے ہو گئے تو بینکوں سے رقوم نکال لی جائے گی اور بینکوں اور حکومت کو دیوالیہ ہونے سے کوئی نہیں روک پائے گا ہنڈی کا کام شروع ہو جائے گا لین دین کیش میں ہوگا جس سے چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور حکومت جس کا ہدف ٹیکس بڑھانا وہ بالکل فارغ ہو جائے گا

تاجران بھی معافی دینے کو تیار نہیں
ایک چھوٹی سی مثال دوں گا امید ہے دوست بھائی ناراض نہیں ہونگے
ایک آڑھتی سالانہ تقریبا 2 ارب روپے سے زائد جنس کا لین دین کرتا ہے
جب وہ زمیندار کو کاشت کے سلسلے میں ہاتھ بٹاتا ہے تو ادویات اور کھاد کی قیمتوں میں اس سے ادھار کی مد میں ڈبل کمائی کرتا پ ہے پھر جب فصل اسکی آڑھت پر آ جاتی تو ادھار اور نقد خرید کا الگ الگ ریٹ ملے گا زمیندار کو پھر آڑھت کمیشن کاٹی جائے گی پھر مزدوری پھر تول میں کمی بیشی اور مزدور بھی معافی نہیں دے گا آڑھت کے تھڑے پر بچنے والی 2 سے 3 من کو وہ کسی کھاتے میں ہی نہیں ڈالے گا
سب سے آخر میں جب زمیندار کو رقم ادائیگی کا ٹائم آئے گا تو اس سے بینک کا ودہولڈنگ ٹیکس کاٹ لیا جائے گا اگر اس شرح کو صرف 2 فیصد بھی سمجھ لیا جائے تو آڑھتی نے 4 کروڑ کمایا اور وہ بھی زمینداروں کے تعاون سے لیکن اس کا ٹیکس شاید وہ 10 ہزار بھی ناں دے

اب سامنے ہیں ملک میں کام کرنے والی نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیاں جو ہر چیز پر سیلز ٹیکس لے رہی ہیں
ایک ڈیلر جو سیلز ٹیکس رجسٹرڈ نہیں ہے اس سے کمپنی 2 فیصد زائد سیلز ٹیکس وصول کرتی ہے لیکن یہ بوجھ عوام پر ہی پڑتا ہے
کیا بات ہے کہ پاکستان کی عوام جو سانس پر بھی سیلز ٹیکس دیتی لیکن حکومت تک نہیں پہنچتا تو اسکی حقیقت سنے
اگر ایک کمپنی کا روزانہ کا سیلز ٹیکس 50 لاکھ بنتا تو ایف بی آر کو وہ ایماندار نمائیندہ جو مانیٹرنگ کے لئے فیکٹری میں بیٹھا ہوتا وہ اپنی مخصوص فیس لے کر 50 لاکھ والے سیلز ٹیکس کو صرف 10 لاکھ تک کم کروانے میں اپنا کردار ادا کرتا مطلب عوام نے 50 لاکھ دے دیا لیکن حکومت کو ملا 10 لاکھ. اگر فیکٹری اس نمائندے کو 1 لاکھ بھی دے روزانہ تو 39 لاکھ تک کمپنی چور ہے عوام اور حکومت کی
لیکن اس طرف شاید کسی کا دھیان نہیں جاتا

اب جو مرکزی مسئلہ جس پر ملک میں ہڑتالوں اور جلسوں کا بازار گرم ہونے والا ہے اس میں ریاست اور حکومت کو بڑا کردار ادا کرنا ہو گا
کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس ٹیکس کو نافذ کرنے کے پیچھے جو عمل کارآمد ہے اس کی پہلے پریکٹس کی جاتی لوگوں کو بتایا جاتا کہ ٹیکس گوشوارے جمع کروانے اور ناں کروانے والوں میں کیا فرق ہے
کیا فوائد ہیں فائلرز کے اور کیا نقصانات ہیں اپنا گوشوارہ جمع ناں کروانے کے. اس کو باقاعدہ ایک کمپین کی صورت میں چلایا جاتا
الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر کمپین زور و شور سے شروع کی جاتی جیسے سموں کو ویریفائی کرنے کا کام کیا گیا. ایک خاص مقررہ مدت تاجران کے اصل نمائندگان کو ساتھ بٹھا کر طے کی جاتی لوگوں سے اس سلسلے میں رائے لی جاتی اور اگر اس خاص مدت کے بعد بھی لوگ گوشوارے جمع ناں کرواتے تو ایک بھاری ٹیکس نافذ کیا جاتا. اگر یہ اقدامات کئے جاتے تو حکومتی اقدامات ہی سراہے جاتے. دوسرا المیہ ایف بی آر کے نمائندگان کا ہے جو ٹیکسز چوری کے راستے خود دکھاتے اور عوام اور تاجروں کو اس حد تک ڈراتے کہ وہ شاید کسی بھی اتنا ناں ڈرتے ہو. ایف بی آر کو کرپشن اور چوروں سے پاک عوام اور تاجر دوست محکمہ بنایا جائے. ریاست اپنی ترجیحات لوگوں کی فلاح و بہبود پر رکھے ناں کہ جو ایم این ایز یا ایم ایز اے حکومتی حلقوں میں مضبوط ہیں انکے علاوے ترقی یافتہ اور اپوزیشن کے علاقے ترقی پذیر رہ جائے. عوام کو اعلی تعلیم اور صحت کے مراکز فراہم کئے جائے
بیوروکریسی جو صرف اور صرف عوام کے ٹیکسز کی تنخواہیں لیتی لیکن عوام کو اپنا غلام سمجھتی اس بے لگام گھوڑے کو قابو کرنا بہت ضروری ہے
اس کے علاوہ اور بہت سی ایسی تاجروں کی چوریاں اور ریاست کی کمزوریاں ہیں جن کو اگر میں شاید لکھنے لگوں تو الفاظ ختم ہوجائے لیکن یہ ختم ناں ہوں
یہ الفاظ صرف اس ودہولڈنگ کے لئے ہیں جو اس کو قاتلانہ سمجھ رہے ہیں اگر آپ سچے ہیں اور چوری نہیں کرتے تو آپ اپنا گوشوارہ جنع کروائے آپکو ایک پیسہ بھی ودہولڈنگ ٹیکس نہیں پڑے گا اور اگر پڑ چکا ہے اور آپ ٹیکس نیٹ میں نہیں ہے تو آج ہی اپنا گوشوارہ جمع کروائے اور حکومت سے اپنے ٹیکس کی مد میں ادا کی ہوئی رقم کو واپس لے سکتے ہیں. اور حکومت خدارا اس ایف بی آر کے ناگ کو عوام کے لئے رحمت کا وسیلہ بنائے ناں کے آگ کا گولا
اگر میرے الفاظ سے کسی تاجر بھائی کو تکلیف ہوئی ہو تو معذرت خواہ ہوں
اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین

اتوار، 14 جون، 2015

قائدین کے جھوٹ اور ثبوتوں کی اصلیت

ثبوت ثبوت ثبوت یہ وہ لفظ ہے جسکی بنیاد پر پاکستانی عوام ایک اذیت اور ذہنی کوفت میں مبتلا ہے. 2013 کے جنرل الیکشن ہوئے. ہر بندے کو یہ بات عیاں تھی کہ وہ پیپلز پارٹی جسے ضیاالحق ختم ناں کرسکا وہ خود بھٹو کے داماد اور شریک چئیر پرسن محترم آصف علی زرداری نے اپنے ہاتھوں سے مار دی تھی اور الیکشن میں پیپلز پارٹی کا وجود ناں ہونے کے برابر تھا. اور دوسری رہی پی ٹی آئی جس کی باگ دوڑ اب شجاع پاشا کے ہاتھ میں تھی. ن لیگ کی دن بدن مضبوطی اور پیپلز پارٹی کی کمزوری سے اس گروہ کو ایک خاص شکایت پیدا ہورہی تھی پھر اچانک منظم طریقے سے اچانک پاکستان کی نوجوان نسل کو تبدیلی کا نعرہ دے کر متوجہ کیا گیا. ن لیگ پر 30 سال حکومت کرنے کے شور سے نوجوانوں کو گمراہ کیا گیا. جلسوں جلوسوں میں جذبات کو ابھارنے کے لئے خاص طور طریقے اپنائے گئے. ڈانس گانے اور خاص کر نوجوان لڑکیوں کا ایک خاص قسم کا متوجہ ہونے کا طریقہ. اور سب سے بڑا اس میڈیا کا کردار جس پر میں پہلے اپنے الفاظ بیان کر چکا ہوں. اس میڈیا کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ ہر حال میں پی ٹی آئی کو پاکستان کی سب منظم اچھی محب وطن غریبوں کی دوست اور پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بنا دیا جائے. میڈیا نے بہت کوشش کی اور پی ٹی آئی کے پھٹے غبارے میں متواتر ہوا بھرنے کا عمل جاری رکھا اور لوگوں کے ذہنوں پر یہ بات مسلط کرنے میں کوئی کسر روا ناں رکھی. پی ٹی آئی کے چئیر پرسن محترم عمران خان کو جب اچانک اربوں کے فنڈز اور مفت میں بے انتہا مشہوری ملی تو وہ خود پریشان تھے اور ان سے عزت سنبھالی نہیں گئی.
الیکشن کمین شروع ہوئی ہر جماعت عوام میں چلی گئی. ن لیگ کے راہنما شہباز شریف نے اپنی شعلہ بیانی سے لوگوں کو قائل کیا اور ن لیگ نے الیکشن لڑنے کے طریقے کو انتہائی منظم انداز میں اپنایا تمام ٹکٹس باقاعدہ عوامی سروے کروا کی دی گئی اور انتہائی قابل اور جیتنے والے امیدوار چنے گئے کیونکہ پاکستان میں جہاں ٹکٹ کا ہونا ضروری ہے وہاں امیدوار کا مضبوط ہونا اس سے بھی ضروری ہے. پی ٹی آئی میڈیا پر اپنی مشہوری کی وجہ سے خوش فہمی کا شکار تھی اور ٹوئیٹر ٹرینڈز پی ٹی آئی کا کلین سویپ کروائے بیٹھے تھے.
11 مئی کا دن آیا الیکشن تاریخ آن پہنچی پولنگ شروع ہوئی میں نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا باہر نکلا مجھے میرے والد محترم کا فون آیا کہ این اے 110 میں پیپلز پارٹی کی امیدوار فردوس عاشق اعوان ن لیگ کے امیدوار خواجہ آصف کے خلاف پی ٹی آئی کے امیدوار کے حق میں بیٹھ گئی. 11 مئی کا دن خیر خیریت سے گزرا شام 6 بجے سے مختلف حلقوں سے رزلٹس آنا شروع ہو گئے اور رات 11 بجے تک تقریبا 70 فیصد سے زائد رزلٹس کلئیر ہو چکے تھے اور ن لیگ 1997 کے الیکشن کی طرح ایک بار پھر پاکستان کے وفاق کے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری. پنجاب سے کلین سویپ. بلوچستان میں مخلوط حکومت سندھ سے بھی بمائندگی اور پختونخواہ سے بھی ٹھیک ٹھاک نمائندگی ملی.
پیپلز پارٹی صرف سندھ تک محدود ہوگئی. پی ٹی آئی پختونخواہ میں طالبان بھائیوں کی بدولت حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی
سندھ سے انہیں 4 صوبائی اور 1 قومی حلقے کی سیٹ ملی اسی طرح پنجاب بھر میں 1 درجن سیٹیں اور بلوچستان سے بالکل خالی
اپنے آپ کو سب سے بڑی پارٹی کلیم کرنے والی پارٹی کی 55 حلقوں میں ضمانتیں ضبط ہوئیں. ضمانت ضبط تب ہوتی ہے جب امیدوار کاسٹ گئے ووٹس کا 10 فیصد سے کم لینے میں ناکام ہوتا ہے اور میرا اپنا شہر جس میں پی ٹی آئی کی قومی اور صوبائی دونوں حلقوں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں اس کے علاوہ 90 سیٹوں پر پی ٹی آئی دوسرے کی بجائے تیسرے نمبر آئی اور خواب دیکھا تھا کلین سویپ کا. میڈیا نے اتنا زیادہ اس کو اہمیت دے دی تھی کہ چئیرمین عمران خان دن رات سوتے جاگتے وزیراعظم بننے کا خواب دیکھتے تھے اور شیروانی سلوا کر بیٹھے ہوئے تھے. رزلٹس مکمل ہوئے ن لیگ 2 تہائی اکثریت سے وفاق میں آ گئی اور سب سے اعلی ظرفی بلوچستان میں جماعتوں کو قومی دھارے میں لانے کے لئے وزارت اعلی کی قربانی دی. ملک اپنی ڈگر پر چل پڑا پھر ایک دن اچانک شوکت خانم ہسپتال جو عوام کی زکوتہ اور صدقات پر چلتا ہے وہاں سے سب سے غریب لیڈر عمران خان کا ایک بار پھر نیا کام سونپا گیا اور وہ تھا اس حکومت کی کمزوری کا یا خاتمے کا عمل. میڈیا کو حسب معمول ہدایات دے کر ایک تماشہ کھڑا کر دیا گیا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اور پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چوری کیا گیا. اضطراب بڑھتا گیا میاں صاحب اس طرف دھیان دینے کی بجائے اپنے کام میں لگے رہے اور ملک کی سلامتی اور بقا کے لئے دن رات محنت کررہے تھے. ٹائم گزرتا گیا دھاندلی کا شوشہ اب بڑھنا شروع ہوا. چیف جسٹس افتخار حسین چودھری کے ریٹائر ہوتے ہی وہ گینگ پی ٹی آئی کا سرغنہ اور چیف جسٹس اور نواز لیگ کا سب سے بڑا دشمن مکمل حرکت میں آ گیا. الزامات کی بوچھاڑ شروع ہوئی 4 حلقوں کو بنیاد بنا کر ڈرامہ شروع کردیا گیا. چیف جسٹس اور خلیل رمدے پر الیکشن چوری پلان کے ماسٹر مائینڈ ہونے کا الزام لگا. نجم سیٹھی سابقہ نگران وزیراعلی پر 35 پنکچرز لگانے کا الزام
آئی بی کے بریگیڈیئر پر الزام . الیکشن کمیشن پر الزام اور سب سے آخر میں زرداری بھائی کی بات پکڑتے ہوئے آر اوز پر الزام لگا دیا گیا. یاہں ایک بات یاد رکھی جائے 2013 کے الیکشن میں آراوز جوڈیشری سے لینے کی درخواست محترم عمران خان نے ہی کی تھی. خان صاحب ٹی وی پر آ کر مسلسل نت نئے الزامات لگاتے رہے. اور انکی سچائی پر کہتے کہ ہمارے پاس سارے ثبوت موجود ہیں نجم سیٹھی کی 35 پنکچرز والی ٹیپ موجود ہے اور جس بات کا جواب مانگا جائے وہبیہہ کہ ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں اور سب سے بڑا الزام اردو بازار سے بیلٹ پیپرز چھپنے کا لگایا جس پر موصوف کہتے تھے کہ ہمارے پاس اس پرنٹنگ پریس کا بل موجود ہے جہاں سے ایکسٹرا بیلٹ پیپرز چھاپے گئے
12 مئی 2014 کا دن آیا حکومت کی جیت کو 1 سال مکمل ہوا اور قائد مہارانی محترم طاہر القادری صاحب ایک بار پھر میدان میں کود پڑے خطاب کیا کہ اٹھو اس انقلاب کی شکل میں آور لپیٹ دو اس نظام کو . حسب معمول حکومت نے اس سازش کو سمجھنے میں دیر لگائی انہی دنوں پاکستان حکومت اور افوج پاک نے دہشت گردوں اور پی ٹی آئی کی حکومتی الائنس طالبان کے خلاف ضرب عزب شروع کیا
خان صاحب اب خاموش ہو گئے لیکن ان کا اضطراب جاری تھا اور پھر شروع ہوا اصل کھیل. 17 جون کو حکومت پنجاب کی سب سے بڑی نااہلی ہوئی اور ماڈل ٹاوں میں معمولی سے مسئلے کا ایسا بھیانک رزلٹ نکلا کہ پورا ملک ہیجان میں آ گیا 17 لوگ ماڈل ٹاؤن میں مارے گئے 1 ماہ پہلے طاہر القادری جو نا جانے کس بنا پر حکومت کو اور نثام کو لپیٹنے کی باتیں کرتا تھا اچانک اسکے جسم میں بے پناہ طاقت آ گئی اسکی زبان کو الفاظ مل گئے اور وہ پاکستان کی اڑان کی تیاری کرنے لگا اور اگلے ہی دن خان صاحب نے بھکر جلسے میں دھاندلی کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کردیا. حکومت نے اس معاملے کو بھی زیادہ سیریس انداز میں نہیں لیا اور پنجاب پولیس بری طرح ناکام ہوئی معاملات کو سنبھالنے میں. رانا ثناءاللہ کا استعفی ہوگیا
اب طاہر القادری صاحب کا موقف تھا کہ ساری شریف فیملی اور تمام وزرا پر ایف آئی آر دی جائے. باتوں کو سلجھایا نا جاسکا اور حسب پلان عمران خان اور طاہر القادری نے 14 اگست کو لانگ مارچ اکٹھے کرنے کا اعلان کردیا. 14 اگست آ گئی ساری گیم پلان تھی . پی ٹی آئی کو مارشل لا کے سب سے پیارے بچے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور قادری کو ایم کیو ایم کے گورنر اور پنجاب کے متنازعہ اور پلان میں شامل گورنر چوہدری سرور کی بدولت اجازت مل گئی
دونوں جماعتیں نظام کو لپیٹنے اور ٹیکنو کریٹ گورنمنٹ سے کم کسی بات پر آمادہ ہی نہیں تھیں
13 اگست کو وزیر اعظم نے سپریم کورٹ کو خط لکھا کہ ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے اور انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کی جائیں. لیکن خان صاحب کو جو اشارے اور ہدایات مل رہی تھیں وہ اب نواز شریف کے استعفی سے کم کسی صورت بات ہی نہیں کررہا تھا. 10 لاکھ لوگوں کو لیجانے کا اعلان 1 لاکھ موٹر سائیکل جس میں سے صرف 99 ہزار 900 کم تھیں اسلام آباد روا دواں تھیں
قائد انتشار عمران خان اور قائد افراتفری طاہر القادری اسلام آباد پہنچ گئے
راستے میں ہونے والے واقعات کی بدولت گوجرانوالہ سے آگے جانے کی سپیڈ 120 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کر گئی
2 عدد وی آئی پی کنٹینرز اسلام آباد کی شاہراہ پر لگا دئے گئے
اور اب شروع ہوئے نئے الزامات اور نئے مطالبے
حکومت جو ماڈل ٹاؤن واقعہ سے ڈر چکی تھی کیونکہ اسے اندازہ ہوچکا تھا ان دونوں کے پیچھے کوئی قوت بر سر پیکار ہے لیکن اس ملک کی جمہوریت ابھی اتنی مضبوط نہیں کہ اسے بے نقاب کیا جائے
معاملات سلجھانے کے لئے بہت سے فریق میدان میں کودے
خان صاحب اور قادری کسی کی بات سننے کو تیار کہاں تھے لیکن اچانک ایک دن آرمی چیف کی آواز پڑی اور دونوں قائدین ملنگوں کی طرح بھاگتے گئے اور پہلے آبپارہ سے ہوتے گئے اب یہاں میرے الفاظ بھی کمزور ہیں مکمل نہیں لکھ سکتا
آرمی چیف نے انہیں نواز شریف کے استعفی کے سوا ہر بات کی یقین دھانی کروائی لیکن وہ انگلی جو خان صاحب مسلسل اٹھا رہے تھے وہ شاید ٹوٹی تو نہیں لیکن کمزور ضرور ہوچکی تھی
وہاں سے مایوسی ہوئی تو اب شروع ہوا الزامات کا نیا انقلاب
افتخار حسین چودھری.  خلیل الرحمن رمدے، نجم سیٹھی کے 35 پنکچرز، اردو بازار کے بیلٹ پیپرز ، ایم کیو ایم کی ایم این اے کے قتل میں ملوث 2 وفاقی وزرا، 35 پنکچرز کی ٹیپ، آئی بی کا بریگیڈئر،  اور روزانہ کی بنیاد پر اتنے الزامات کے پچھلے دن کی بات بھول جاتی. جب کسی طرح سے بات ناں بنی تو شروع ہوا دوسرا فیز جو تھا پارلیمنٹ پر حملہ کہ اس صورت میں لاشیں گرے گی اور مارشل لا کا نفاظ آسان ہو جائے گا
پارلیمنٹ پر حملہ ہوا. پولیس کو گولی ناں چلانے کی ہدایت تھی ہزاروں لوگوں نے آخر کار پارلیمنٹ پر قبضہ کرلیا لیکن کیا ہوا  اگلے دن سازش بے نقاب . بدبو دار شراکت جو قائد انتشار اور قائد افراتفری کا تھی سب سامنے آ گئی. آئی ایس آئی. پاشا ، چوہدری سرور، اور سارا پلان ایک معذور بڈھے نے نکال پھینکا. آئی ایس پی آر سے روزانہ ہونے والی ٹویٹس اچانک غائب ہو گئیں. موجودہ چیف جسٹس کا نام بھی سامنے آیا
کسی طرف سے جاوید ہاشمی کے انکشافات کا انکار ناں ہوسکا.
اب حکومت کسی طرح سے ان کی بات سننے پر نہیں آ رہی تھی. انکی منتین سماجت اب ہر کوئی دیکھتا تھا.
عید قرباں آئی اور 14 اگست کی خوشیوں کی طرح اس عید پر بھی میڈیا کی مہربانیوں سے عوام نے اذیت ہی لی
دھرنا ناکام ہوگیا الزامات بڑھتے گئے
اب شروع ہوا تیسرا فیز جلسوں کا. میڈیا نے ہر شہر کو جگا دیا. ہر جلسے میں میں قائد انتشار ایک پروں والے رکشے پر جاتے اور ایک خاص ٹولہ جنکا تھڑکتا جسم لوگوں کو مائل کرنے میں کوئی ثانی نہیں رکھتا تھا جلسے سے 1 دن پہلے پہنچ جاتا تھا. ہر جگہ نت نئے الزامات اسی سپیڈ سے لگتے تھے لیکن جب ثبوتوں کی بات کی جاتی تو خاموشی
یہ مرحلہ بھی ناکام ہوا اور شروع ہوا انتشار برپا کرنے کا سب سے بڑا مرحلہ. قائد افراتفری کافی کرواچکے تھے. کرائے پر لائے گئے مزدور اور لوگ اب گھروں کو بھاگ رہے تھے اس لئے انہوں نے غنیمت جانی دل کی تکلیف لگوائی اور کنیڈا کے سفر پر روانہ ہو گئے کزن کزن سے بچھڑ گیا اور شراکت ٹوٹ گئی
میڈیا ابھی تک ناکام تھا کسی بھی بڑی تبدیلی کے لئے ان کا کیا دھرا ناکام ہو رہا تھا
کراچی لاہور اور فیص آباد میں انتشار کی کال اور زبردستی دکانیں بند کروانے میں جانیں بھی گئیں اور لوگ زخمی بھی ہوئے
16 دسمبر کا ایک دلخراش واقعہ پیش آیا. معصوم بچے معصوم کلیاں کھلنے سے پہلے مرجھا گئیں. 18 دسمبر کو ایک مضبوط ترین ڈنڈے نے دھرنا ختم کروادیا اور قائد انتشار کے چاروں پلان فیل ہوگئے
لیکن کیا کہنے اس میڈیا کے جس کو ایک لڑکی نیہا انصاری بے نقاب کر گئی. میڈیا کے گونگے بہرے دانشور اس آرٹیکل کا جواب مانگنے پر بلاک کر دیتے تھے جن میں سے مشہور زمانہ سما نیوز کے اینکر اور پی ٹی وی کے ایم ڈی کے امیدوار ندیم ملک سر فہرست تھے.
معاملات چلتے رہے الزامات اسی سپیڈ سے لگتے رہے
آخر کار حکومت اور پی ٹی آئی کا معاہدہ ہو گیا اور صدارتی آرڈیننس سے جوڈیشل کمیشن تشکیل میں آ گیا
پی ٹی آئی نے جو الزامات لگائے تھے اب ان ثبوتوں کو پیش کرنے کا وقت آ چکا تھا
کاروائی شروع ہوگئی
1 لاکھ چالیس ہزار صفحات پر مشتمل ثبوت جوڈیشل کمیشن میں جمع کروا دئیے گئے. یہ کیا ہوا عوام سے درخواستیں کرنا شروع کر دی اگر کسی کے پاس دھاندلی کے ثبوت ہیں تو ہمیں جمع کروا کر ثواب حاصل کرے
بیلٹ پیپرز اردو بازار سے چھپے. ناکامی ہوئی
چیف جسٹس. بلانے سے بھی ڈر گئے
رمدے. نام بھی بھول گیا.
سیٹھی آیا. 35 پنکچرز غائب
آراوز آئے. ان سے ہم سوالات نہیں پوچھے گے
ہر بات میں ناکامی کے بعد ایک نیا شوشہ مل گیا اور وہ تھا فارم 15 کا
فارم 15 میں بیلٹ پیپرز کا سارا حساب شامل ہوتا ہے
لیکن جب تحقیق ہوئی تو 44 فیصد فارم 15 پی ٹی آئی کے حلقوں سے غائب نکلے. اب پی ٹی آئی کے پاس کچھ باقی نہیں بچا. فارم 15 کی مسنگ کو انہوں دھاندلی قرار دے دیا. اور سب سے آخر میں اب درخواست کر دی کہ ہم نے جو کہنا تھا کہہ دیا اب کمیشن خود انکوائری کرے. اسکے 2 مطلب ہیں یاں تو پی ٹی آئی خفت مٹانے کے لئے اب اس بات پر آگئی ہے ہمارے پاس جو الزامات تھے انکے ثبوت تو دور کی بات ان پر دوبارہ بات کرنا بھی پکڑوا سکتا ہے اور دوسری یہ کہ 30 سے 45 دن میں کاروائی مکمل کروانے والے معاہدے کو اتنا لمبا کردیا جائے کہ سپریم کورٹ ہر کام چھوڑ کر روزانہ 2 آر اوز بلائے اور 2018 اسی طرح آ جائے اور حسب روایت دھاندلی چورن بیچتے رہے اور 2018 کا الیکشن صرف دھاندلی کی بنیاد پر حصہ لے کیونکہ پختونخواہ کی حکومت کے حالات موجودہ اور سابقہ تمام حکومتوں سے کمزور ہے. اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ چیف جسٹس جاوید ہاشمی کی باقی تمام باتوں کی تصدیق ہونے کے بعد اس بات کی بھی تصدیق کرے گے اور اپنا کردار ادا کرتے ہوئے عوام کے جذبات سے مزید کگیلا جائے گا اور ملک میں اضطراب اور انتشار اور افراتفری کا کھیل جاری رہے گا.
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آمین )

بدھ، 10 جون، 2015

میڈیا کے فنکار

کافی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ روز مرہ زندگی میں کئی معلومات ایسی ملتیں ہیں جو ہمارے لئے سرمایہ حیات بن سکتی ہیں لیکن ان معلومات کو ہم ایسے ضائع کرتے ہیں جیسے پانی ضائع ہو رہا ہے. ہر فرد افراتفری  میں بھاگ رہا ہے. دنیا کی فکر میں آخرت تو مل ہی نہیں رہی دنیا بھی ہم سے بھاگ رہی ہے. معلومات کے حاصل میں ہمارا سب سے بڑا ذریعہ میڈیا ہے آج سے چند عرصہ پہلے جب ہم چھوٹے ہوتے تھے تو صبح سکول جانے سے لیکر رات سونے تک کا شیڈول ایک پی ٹی وی پر ہی چلتا تھا پھر کیا ہوا شور ہوا میڈیا کی آزادی کا
مشرف نے میڈیا کو ایک نئے روپ میں دکھایا. لوگ سمجھے میڈیا ہمارے تحفظ اور حق کے لئے نکلے گا لیکن جو ہوا وہ سب سے خطرناک نتیجہ نکلا. مافیاز جو ڈرتے تھے اپنے 2 نمبرز دھندوں کی وجہ سے وہ میڈیا مالکان بن گئے نت نئے رنگ برنگے چینلز جن پر تھڑکتے جسم اور ڈوپٹے کے بغیر نئے روشن چہرے آ گئے دیکھتے ہی دیکھتے سارا پاکستان میڈیا کے جمود میں قابو آ گیا. نام نہاد اینکرز جو بولنے میں فلمی فنکاروں سے بھی بڑھ کے تھے اپنی چکنی اور فنکارانہ صلاحیتوں سے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ دکھانے لگے. لوگ ان کو یقین کامل کی طرح ماننے لگے آہستہ آہستہ میڈیا نے اصل رنگ دکھانے شروع کر دئیے. بلیک میلنگ ایک ہتھیار بنا لیا گیا. بڑے بڑے بزنس مین سیاستدان ہوٹل مالکان بیورو کریٹس ان کے شکار بننا شروع ہوئے. عام سے افراد 2 کروڑ کی گاڑی پر پہنچ گئے ان کے بچے پڑھائی کے لیئے امریکہ اور انگلستان کے علاقوں میں پہنچ گئے . ان کی چھٹیوں کی سیر کم از کم 3 سے 4 ممالک تک چلی گئی. اگر کسی علاقے میں کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو لوگ تھانہ جانے کی بجائے سیدھا ان میڈیا والوں کے پاس پہنچ جاتے اور تھانہ فیس 2 حصوں میں تقسیم ہو کر کام کو انجام دیتی. کرمنل رپورٹنگ کرنے والا سپورٹس پر رپورٹنگ کررہا ہوتا. سپورٹس والا اقتصادیات پر رپورٹنگ کرتا. ٹی وی پر بیٹھ کر ہزاروں کے سوٹ اور گرمیوں میں پینٹ کوٹ پہن کر غریبوں کے جذبات کا مذاق اڑانے والے یہ معصوم فرشتہ صفت اینکرز ہماری تقدیر کا فیصلہ کرتے نظر آتے
ہر چینل کا اینکر سوال آلو کرتا ہے اور جواب بینگن لے کر قوم کو الو بنا دیتا ہے. ان کا بس چلے تو چیف جسٹس بن کر فیصلے کرے. دل کرتا ان کا وزیراعظم بن کر کابینہ بنائے. خود ہی وزیر بن کر محکموں کو چلائے. بیوروکریٹس کی کرسی کے تو یہ دیوانے ہوتے ہیں. لیکن ایک جگہ ہے جہاں آ کر انکی زبان گنگ ہو جاتی ان کا رنگ پھیکا پڑ جاتا اور ان کے پر جل جاتے. ان فرشتوں کے متعلق بات کرنا گناہ اور سزا گولی کی صورت میں مل جاتی ہے. خیر یہ باتیں اور طرف نکل جاتیں ہیں بات تو میڈیا کے فنکاروں اور اداکاروں کی ہے. انکا پسندیدہ مشغلہ لوگوں کا مذاق بنانا اور جھوٹوں پر مبنی مفروضے دے کر صرف اپنی ریٹنگ کو بڑھانے کے لئے انتشار زدہ باتوں کی بے پناہ تشہیر کرنا. جو انکو پسند نہیں اس کا مذاق اڑانا. سیاسی وابستگی کی بنا پر سیاسی ورکروں کی تذلیل کرنا.
کوئی نام نہاد چینل یا اینکر کبھی بھی اپنے آپ کو غلط نہیں مانتا بلکہ دوسروں کی سچائی کا مذاق بنا کر آگے بڑھ جاتا.
کیا کبھی کسی کی نظر اور دل میں اس بات کا تصور کیا کہ آج کے دور میں ہم خدا سے کم ڈرتے ہیں اور ان چینلز فنکاروں سے زیادہ ڈرتے ہیں
آپ اگر بے تحاشہ پیسے کے مالک ہے تو ان سے رابطہ کرے یہ خود آپ کے پاس پہنچے گے اور آپکو دنیا کے سامنے ایسا بنا کر پیش کرے گے کہ شاید آپکو خود اپنے آپ پر شک پڑنا شروع ہوجائے کہ یہ آپ ہی ہے.
ہر قسم کی پلان شدہ گفتگو ان کے ساتھ آپ ارینج کر سکتے ہے اور اگر آپ انکی امیدوں پر پورا نہیں اترتے تو یاد رکھے آف کیمرہ ریکارڈنگ کسی وقت بھی میڈیا چینلز کی رونق بن سکتی ہے
آج اس مشکل دور میں جہاں سیاسی کارکن اپنی جانیں دیتے ہیں ملازم پیشہ طبقہ اپنی روزی کے لئے خون پسینہ ایک کرتا ہے تاجر اپنی سرمایہ کاری اور محنت سے بچوں کا پیٹ پالتا ہے وہاں یہ فنکار 1 گھنٹے کی ایکٹنگ کر کے لاکھوں لے کر اپنے گھر جاتے اور عوام کو جو سارا دن پستی ہے اور سکون کی زندگی چاہتی ہے انکی فنکارانہ صلاحیتوں کی بدولت اپنے آپ کو کوستے ہیں کہ ہم دنیا کے کس ملک میں آ گئے جہاں ہر وقت انتشار اور افراتفری جاری ہے.
میری یہ باتیں لکھنے میں جتنی بڑھتی جائیں گی اور زیادہ معلومات بڑھتی جائیں گی
اس بات کو میں مختصر کر کے بس ایک آئینہ سامنے لانا چاہتا ہوں کہ ہم پاکستانی عوام کا کیا قصور ہے جو آپ کی پسند ناپسند کی بنا پر اذیت میں ڈوب رہے ہیں خدارا یہ جو نفرت کے بیج کو آپ کھاد اور پانی دے رہے ہو اسکی فصل بہت خطرناک ہے. وہ وقت بڑا بھیانک ہو گا جب بیٹا باپ کو اور ماں بیٹی کو کراس سوالات میں شرمندہ کرے گے
اس وقت سے ڈرو جب ہر بندہ جج بن کر خود فیصلے کرے
ڈرو اس وقت سے جب انصاف کا ہاتھ تمہاری طرف بڑھے گا
آخر میں اللہ سے یہی دعا ہے کہ اے اللہ ہمیں سیدھے راستے پر چلا ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آمین)