کافی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ روز مرہ زندگی میں کئی معلومات ایسی ملتیں ہیں جو ہمارے لئے سرمایہ حیات بن سکتی ہیں لیکن ان معلومات کو ہم ایسے ضائع کرتے ہیں جیسے پانی ضائع ہو رہا ہے. ہر فرد افراتفری میں بھاگ رہا ہے. دنیا کی فکر میں آخرت تو مل ہی نہیں رہی دنیا بھی ہم سے بھاگ رہی ہے. معلومات کے حاصل میں ہمارا سب سے بڑا ذریعہ میڈیا ہے آج سے چند عرصہ پہلے جب ہم چھوٹے ہوتے تھے تو صبح سکول جانے سے لیکر رات سونے تک کا شیڈول ایک پی ٹی وی پر ہی چلتا تھا پھر کیا ہوا شور ہوا میڈیا کی آزادی کا
مشرف نے میڈیا کو ایک نئے روپ میں دکھایا. لوگ سمجھے میڈیا ہمارے تحفظ اور حق کے لئے نکلے گا لیکن جو ہوا وہ سب سے خطرناک نتیجہ نکلا. مافیاز جو ڈرتے تھے اپنے 2 نمبرز دھندوں کی وجہ سے وہ میڈیا مالکان بن گئے نت نئے رنگ برنگے چینلز جن پر تھڑکتے جسم اور ڈوپٹے کے بغیر نئے روشن چہرے آ گئے دیکھتے ہی دیکھتے سارا پاکستان میڈیا کے جمود میں قابو آ گیا. نام نہاد اینکرز جو بولنے میں فلمی فنکاروں سے بھی بڑھ کے تھے اپنی چکنی اور فنکارانہ صلاحیتوں سے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ دکھانے لگے. لوگ ان کو یقین کامل کی طرح ماننے لگے آہستہ آہستہ میڈیا نے اصل رنگ دکھانے شروع کر دئیے. بلیک میلنگ ایک ہتھیار بنا لیا گیا. بڑے بڑے بزنس مین سیاستدان ہوٹل مالکان بیورو کریٹس ان کے شکار بننا شروع ہوئے. عام سے افراد 2 کروڑ کی گاڑی پر پہنچ گئے ان کے بچے پڑھائی کے لیئے امریکہ اور انگلستان کے علاقوں میں پہنچ گئے . ان کی چھٹیوں کی سیر کم از کم 3 سے 4 ممالک تک چلی گئی. اگر کسی علاقے میں کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو لوگ تھانہ جانے کی بجائے سیدھا ان میڈیا والوں کے پاس پہنچ جاتے اور تھانہ فیس 2 حصوں میں تقسیم ہو کر کام کو انجام دیتی. کرمنل رپورٹنگ کرنے والا سپورٹس پر رپورٹنگ کررہا ہوتا. سپورٹس والا اقتصادیات پر رپورٹنگ کرتا. ٹی وی پر بیٹھ کر ہزاروں کے سوٹ اور گرمیوں میں پینٹ کوٹ پہن کر غریبوں کے جذبات کا مذاق اڑانے والے یہ معصوم فرشتہ صفت اینکرز ہماری تقدیر کا فیصلہ کرتے نظر آتے
ہر چینل کا اینکر سوال آلو کرتا ہے اور جواب بینگن لے کر قوم کو الو بنا دیتا ہے. ان کا بس چلے تو چیف جسٹس بن کر فیصلے کرے. دل کرتا ان کا وزیراعظم بن کر کابینہ بنائے. خود ہی وزیر بن کر محکموں کو چلائے. بیوروکریٹس کی کرسی کے تو یہ دیوانے ہوتے ہیں. لیکن ایک جگہ ہے جہاں آ کر انکی زبان گنگ ہو جاتی ان کا رنگ پھیکا پڑ جاتا اور ان کے پر جل جاتے. ان فرشتوں کے متعلق بات کرنا گناہ اور سزا گولی کی صورت میں مل جاتی ہے. خیر یہ باتیں اور طرف نکل جاتیں ہیں بات تو میڈیا کے فنکاروں اور اداکاروں کی ہے. انکا پسندیدہ مشغلہ لوگوں کا مذاق بنانا اور جھوٹوں پر مبنی مفروضے دے کر صرف اپنی ریٹنگ کو بڑھانے کے لئے انتشار زدہ باتوں کی بے پناہ تشہیر کرنا. جو انکو پسند نہیں اس کا مذاق اڑانا. سیاسی وابستگی کی بنا پر سیاسی ورکروں کی تذلیل کرنا.
کوئی نام نہاد چینل یا اینکر کبھی بھی اپنے آپ کو غلط نہیں مانتا بلکہ دوسروں کی سچائی کا مذاق بنا کر آگے بڑھ جاتا.
کیا کبھی کسی کی نظر اور دل میں اس بات کا تصور کیا کہ آج کے دور میں ہم خدا سے کم ڈرتے ہیں اور ان چینلز فنکاروں سے زیادہ ڈرتے ہیں
آپ اگر بے تحاشہ پیسے کے مالک ہے تو ان سے رابطہ کرے یہ خود آپ کے پاس پہنچے گے اور آپکو دنیا کے سامنے ایسا بنا کر پیش کرے گے کہ شاید آپکو خود اپنے آپ پر شک پڑنا شروع ہوجائے کہ یہ آپ ہی ہے.
ہر قسم کی پلان شدہ گفتگو ان کے ساتھ آپ ارینج کر سکتے ہے اور اگر آپ انکی امیدوں پر پورا نہیں اترتے تو یاد رکھے آف کیمرہ ریکارڈنگ کسی وقت بھی میڈیا چینلز کی رونق بن سکتی ہے
آج اس مشکل دور میں جہاں سیاسی کارکن اپنی جانیں دیتے ہیں ملازم پیشہ طبقہ اپنی روزی کے لئے خون پسینہ ایک کرتا ہے تاجر اپنی سرمایہ کاری اور محنت سے بچوں کا پیٹ پالتا ہے وہاں یہ فنکار 1 گھنٹے کی ایکٹنگ کر کے لاکھوں لے کر اپنے گھر جاتے اور عوام کو جو سارا دن پستی ہے اور سکون کی زندگی چاہتی ہے انکی فنکارانہ صلاحیتوں کی بدولت اپنے آپ کو کوستے ہیں کہ ہم دنیا کے کس ملک میں آ گئے جہاں ہر وقت انتشار اور افراتفری جاری ہے.
میری یہ باتیں لکھنے میں جتنی بڑھتی جائیں گی اور زیادہ معلومات بڑھتی جائیں گی
اس بات کو میں مختصر کر کے بس ایک آئینہ سامنے لانا چاہتا ہوں کہ ہم پاکستانی عوام کا کیا قصور ہے جو آپ کی پسند ناپسند کی بنا پر اذیت میں ڈوب رہے ہیں خدارا یہ جو نفرت کے بیج کو آپ کھاد اور پانی دے رہے ہو اسکی فصل بہت خطرناک ہے. وہ وقت بڑا بھیانک ہو گا جب بیٹا باپ کو اور ماں بیٹی کو کراس سوالات میں شرمندہ کرے گے
اس وقت سے ڈرو جب ہر بندہ جج بن کر خود فیصلے کرے
ڈرو اس وقت سے جب انصاف کا ہاتھ تمہاری طرف بڑھے گا
آخر میں اللہ سے یہی دعا ہے کہ اے اللہ ہمیں سیدھے راستے پر چلا ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آمین)
مشرف نے میڈیا کو ایک نئے روپ میں دکھایا. لوگ سمجھے میڈیا ہمارے تحفظ اور حق کے لئے نکلے گا لیکن جو ہوا وہ سب سے خطرناک نتیجہ نکلا. مافیاز جو ڈرتے تھے اپنے 2 نمبرز دھندوں کی وجہ سے وہ میڈیا مالکان بن گئے نت نئے رنگ برنگے چینلز جن پر تھڑکتے جسم اور ڈوپٹے کے بغیر نئے روشن چہرے آ گئے دیکھتے ہی دیکھتے سارا پاکستان میڈیا کے جمود میں قابو آ گیا. نام نہاد اینکرز جو بولنے میں فلمی فنکاروں سے بھی بڑھ کے تھے اپنی چکنی اور فنکارانہ صلاحیتوں سے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ دکھانے لگے. لوگ ان کو یقین کامل کی طرح ماننے لگے آہستہ آہستہ میڈیا نے اصل رنگ دکھانے شروع کر دئیے. بلیک میلنگ ایک ہتھیار بنا لیا گیا. بڑے بڑے بزنس مین سیاستدان ہوٹل مالکان بیورو کریٹس ان کے شکار بننا شروع ہوئے. عام سے افراد 2 کروڑ کی گاڑی پر پہنچ گئے ان کے بچے پڑھائی کے لیئے امریکہ اور انگلستان کے علاقوں میں پہنچ گئے . ان کی چھٹیوں کی سیر کم از کم 3 سے 4 ممالک تک چلی گئی. اگر کسی علاقے میں کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو لوگ تھانہ جانے کی بجائے سیدھا ان میڈیا والوں کے پاس پہنچ جاتے اور تھانہ فیس 2 حصوں میں تقسیم ہو کر کام کو انجام دیتی. کرمنل رپورٹنگ کرنے والا سپورٹس پر رپورٹنگ کررہا ہوتا. سپورٹس والا اقتصادیات پر رپورٹنگ کرتا. ٹی وی پر بیٹھ کر ہزاروں کے سوٹ اور گرمیوں میں پینٹ کوٹ پہن کر غریبوں کے جذبات کا مذاق اڑانے والے یہ معصوم فرشتہ صفت اینکرز ہماری تقدیر کا فیصلہ کرتے نظر آتے
ہر چینل کا اینکر سوال آلو کرتا ہے اور جواب بینگن لے کر قوم کو الو بنا دیتا ہے. ان کا بس چلے تو چیف جسٹس بن کر فیصلے کرے. دل کرتا ان کا وزیراعظم بن کر کابینہ بنائے. خود ہی وزیر بن کر محکموں کو چلائے. بیوروکریٹس کی کرسی کے تو یہ دیوانے ہوتے ہیں. لیکن ایک جگہ ہے جہاں آ کر انکی زبان گنگ ہو جاتی ان کا رنگ پھیکا پڑ جاتا اور ان کے پر جل جاتے. ان فرشتوں کے متعلق بات کرنا گناہ اور سزا گولی کی صورت میں مل جاتی ہے. خیر یہ باتیں اور طرف نکل جاتیں ہیں بات تو میڈیا کے فنکاروں اور اداکاروں کی ہے. انکا پسندیدہ مشغلہ لوگوں کا مذاق بنانا اور جھوٹوں پر مبنی مفروضے دے کر صرف اپنی ریٹنگ کو بڑھانے کے لئے انتشار زدہ باتوں کی بے پناہ تشہیر کرنا. جو انکو پسند نہیں اس کا مذاق اڑانا. سیاسی وابستگی کی بنا پر سیاسی ورکروں کی تذلیل کرنا.
کوئی نام نہاد چینل یا اینکر کبھی بھی اپنے آپ کو غلط نہیں مانتا بلکہ دوسروں کی سچائی کا مذاق بنا کر آگے بڑھ جاتا.
کیا کبھی کسی کی نظر اور دل میں اس بات کا تصور کیا کہ آج کے دور میں ہم خدا سے کم ڈرتے ہیں اور ان چینلز فنکاروں سے زیادہ ڈرتے ہیں
آپ اگر بے تحاشہ پیسے کے مالک ہے تو ان سے رابطہ کرے یہ خود آپ کے پاس پہنچے گے اور آپکو دنیا کے سامنے ایسا بنا کر پیش کرے گے کہ شاید آپکو خود اپنے آپ پر شک پڑنا شروع ہوجائے کہ یہ آپ ہی ہے.
ہر قسم کی پلان شدہ گفتگو ان کے ساتھ آپ ارینج کر سکتے ہے اور اگر آپ انکی امیدوں پر پورا نہیں اترتے تو یاد رکھے آف کیمرہ ریکارڈنگ کسی وقت بھی میڈیا چینلز کی رونق بن سکتی ہے
آج اس مشکل دور میں جہاں سیاسی کارکن اپنی جانیں دیتے ہیں ملازم پیشہ طبقہ اپنی روزی کے لئے خون پسینہ ایک کرتا ہے تاجر اپنی سرمایہ کاری اور محنت سے بچوں کا پیٹ پالتا ہے وہاں یہ فنکار 1 گھنٹے کی ایکٹنگ کر کے لاکھوں لے کر اپنے گھر جاتے اور عوام کو جو سارا دن پستی ہے اور سکون کی زندگی چاہتی ہے انکی فنکارانہ صلاحیتوں کی بدولت اپنے آپ کو کوستے ہیں کہ ہم دنیا کے کس ملک میں آ گئے جہاں ہر وقت انتشار اور افراتفری جاری ہے.
میری یہ باتیں لکھنے میں جتنی بڑھتی جائیں گی اور زیادہ معلومات بڑھتی جائیں گی
اس بات کو میں مختصر کر کے بس ایک آئینہ سامنے لانا چاہتا ہوں کہ ہم پاکستانی عوام کا کیا قصور ہے جو آپ کی پسند ناپسند کی بنا پر اذیت میں ڈوب رہے ہیں خدارا یہ جو نفرت کے بیج کو آپ کھاد اور پانی دے رہے ہو اسکی فصل بہت خطرناک ہے. وہ وقت بڑا بھیانک ہو گا جب بیٹا باپ کو اور ماں بیٹی کو کراس سوالات میں شرمندہ کرے گے
اس وقت سے ڈرو جب ہر بندہ جج بن کر خود فیصلے کرے
ڈرو اس وقت سے جب انصاف کا ہاتھ تمہاری طرف بڑھے گا
آخر میں اللہ سے یہی دعا ہے کہ اے اللہ ہمیں سیدھے راستے پر چلا ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آمین)
شیخ صاحب ۔۔۔ بھی رائیٹر ھوگئے ۔۔۔ یہ پٹوار خانے کو ہو کیا گیا ہے ۔۔۔ برحال ایک اچھی معنی خیز تحریر پڑھنے کو ملی ۔۔۔ بہت خوب وقت کے ساتھ اور نکھار ائے گا ایسے لکھتے رہیے ۔۔
جواب دیںحذف کریںیہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
جواب دیںحذف کریںاس مافیا نے سبکو ہیجان میں مبتلا کیا ھوا ھے
جواب دیںحذف کریںبہت محنت سے لکھا گیا بلاگ۔ ہر لحاظ سے تعریف کے قابل۔ اللّٰہ مزید اچھا لکھنے کی ہمت اور توفیق دے۔ آمین
جواب دیںحذف کریں